Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala September 2013
Al-Risala September 2013

ایک پیغمبرانہ پیشین گوئی

Urdu · 5 min read

حدیث کی کتابوں میں کئی ایسی روایتیں آئی ہیں جن کا تعلق مستقبل کی پیشین گوئی سے ہے، اسی قسم کی ایک پیشین گوئی وہ ہے جو اِن الفاظ میں آئی ہے: یوشک الأمم أن تداعی علیکم کما تداعی الأکَلَۃُ إلی قصعتہا۔ فقال قائلٌ: و من قلۃٍ نحن یومئذ۔ قال بل أنتم یومئذ کثیر، ولکنکم غثاء کغثاء السیل، ولینزعنّ اللہ من صدور عدوکم المہابۃ منکم، ولیقذفنّ فی قلوبکم الوَھْن۔ قیل وما الوھن یا رسول اللہ۔ قال: حب الدنیا وکراھیۃ الموت (أبو داؤد، رقم الحدیث: 4297) حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ قومیں تمھارے اوپر ٹوٹ پڑیں، جس طرح کھانے والے کھانے کے پیالے پر ٹوٹتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا، کیا اِس لیے کہ اُس وقت ہم لوگ کم تعداد میں ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، اُس وقت تم لوگ بہت زیادہ ہو گے، مگر تم لوگ سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے، اللہ تمھارے حریف کے دل سے تمھاری ہیبت نکال دے گا، اور تمھارے دلوں میں ’وہن‘ پیدا کردے گا۔ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول، ’وہن‘ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت، اور موت کو ناپسند کرنا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس حدیث میں ’عدو‘ کا لفظ دشمن یا مقاتل کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ حریف (rival) کے معنی میں ہے- ’قصعة‘ بڑے پیالہ (large bowl) کو کہا جاتا ہے- قدیم زمانے میں یہ رواج تھا کہ ایک بڑے برتن میں کھانا رکھ دیا جاتا تھا اور کھانے والے اس کے چاروں طرف بیٹھ کر کھاتے تھے- حدیث میں اِس تمثیل کے ذریعے ایک ایسے دو رکی پیشین گوئی کی گئی ہے جو بعد کے زمانے میں مسلم دنیا میں آنے والا تھا- حدیث کے الفاظ پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اِس میں معروف قسم کے کسی جنگی حملے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ غالباً اُس میں اُس پر امن واقعے کا ذکر ہے جو اٹھارھویں صدی اور انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران دنیا میں پیش آیا- اپنی نوعیت کے اعتبار سے، یہ کوئی جنگی معاملہ نہ تھا، بلکہ آج کل کی اصطلاح میں وہ اقتصادی استحصال (economic exploitation) کا معاملہ تھا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جب جدید صنعت (modern industry) کا دور آیا تو ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا جس کو کثیر پیداوار (mass production) کہا جاتا- اب صنعتی ملکوں کے سامنے یہ سوال تھا کہ اِس فاضل صنعتی پیداوار کو کہاں کھپایا جائے- قدیم زمانے میں چیزیں صرف دست کاری کے نظام کے تحت بنتی تھیں- دست کار محدودتعداد میں استعمال کی چیزیں بناتاتھا جو کہ مقامی بازار میں فروخت ہوجاتی تھیں- لیکن موجودہ زمانے میں جدید ٹکنالوجی کی بناپر چیزیں بہت زیادہ مقدار میں بننے لگیں جو کہ مقامی ضرورت سے بہت زیادہ ہوتی تھیں-

اِس صورتِ حال نے مغربی قوموں کے اندر ایک نئی ضرورت کا احساس پیدا کیا، یعنی اپنی فاضل پیداوار کی کھپت کے لیے بیرونی ملکوں میں مارکیٹ کی تلاش- اٹلی کے کرسٹوفر کولمبس (وفات: 1506) اور پرتگال کے واس کوڈی گاما (وفات: 1524) کے بحری اسفار اِسی تجارتی روٹ کی دریافت کرنے کے لیے تھے- برٹش کمپنی، فرنچ کمپنی اور ڈچ کمپنی جیسے تجارتی ادارے  اِسی مقصد کے لیے بنائے گئے- انیسویں صدی (1859-1869) میں سوئز نہر (Suez Canal) اِسی تجارتی توسیع کے لیے بنائی گئی، وغیرہ-

صنعتی قوموں (industrial nations) کی طرف سے اقتصادی استحصال کے دوبڑے دور ہیں- پہلا دور وہ ہے جو نو آبادیات (colonialism) کے تحت ظہور میں آیا- دوسرا دور وہ ہے جو بیسویں صدی میں ظہور میں آیا جب کہ مسلم ملکوں کی زمین کے اندر تیل کے ذخائر دریافت ہوئے- کہاجاتاہے کہ تیل کے ذخائر کا 75 فی صد سے زیادہ حصہ مسلم ملکوں میں پایا جاتاہے- صنعتی قوموں کو اپنی انڈسٹری چلانے کے لیے تیل کی مسلسل سپلائی کی ضرورت تھی- اِس مقصد کے لیے انھوں نے مسلم ملکوں پر اپنی بالادستی قائم کی، تاکہ اُن کا صنعتی مفاد کسی روک ٹوک کے بغیر مسلسل باقی رہے- 1948 میں اسرائیل کا قیام بھی اسی خاص مقصد سے تھا- اس کا محرک ہرگز ’’اسلام دشمنی‘‘ نہ تھا، بلکہ صرف اپنے قومی اور تجارتی مفاد کو محفوظ رکھنا تھا-

تاریخ میں ہمیشہ نئے حالات پیش آتے ہیں- یہ نئے حالات گویا ایک نئے قسم کا چیلنج ہیں- اُس وقت ضروری ہوتاہے کہ اِن حالات کے مقابلے میں اپنے موقف کوازسرِ نو متعین کیا جائے- مگر عجیب بات ہےکہ پوری مسلم دنیا ، عرب سے عجم تک، اِن حالات کو سمجھ نہ سکی- اِس معاملے میں تقریباً تمام مسلمان رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوگئے- نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے حصے میں نفرت اورمنفی سوچ اور ٹکراؤ کے سوا اور کچھ نہیں آیا- جس کا آخری نتیجہ مایوسی ہے- موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی طرف سے خودکش بم باری کے جو واقعات ہورہے ہیں، وہ مایوسی کی اِسی نفسیات کا نتیجہ ہیں-

قدیم روایتی ذہن کی بنا پر مسلم رہنما نئے حالات کو سمجھ نہ سکے- اِس بنا پر وہ نئے حالات کے مقابلے میں اپنا مثبت موقف متعین نہ کرسکے- حقیقت یہ ہے کہ نئے حالات نے مسلمانوں کے لیے ساری دنیا میں نئے مواقع کھول دیے تھے- یہ نئے مواقع خاص طور پر دو تھے— ایک، یہ کہ اِن قوموں سے سائنس اور جدید ٹکنالوجی کو سیکھا جائے اور ان کے ذریعے اپنے ملکوں کو ترقی کے نئے دور میں پہنچایا جائے- موجودہ زمانے میں جاپان اس کی ایک مثال ہے- مگر مسلمان ایسا نہ کرسکے- دوسرا امکان یہ تھا کہ اِن قوموں کو مدعو سمجھا جائے اور ان پر دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے- مزید یہ کہ ان کی پیدا کردہ ٹکنالوجی اور ان کے لائے ہوئے کمیونکیشن کو عالمی دعوت کے لیے استعمال کیاجائے- مگر مسلمانوں کی عمومی بے شعوری کی بنا پر یہ کام بھی نہ ہوسکا- مسلمانوں کے حصے میں صرف یہ آیا کہ وہ اِن قوموں کو ’’دشمن‘‘ سمجھیں اور ان کے خلاف ایک شکایتی گروہ بن کر رہ جائیں-

بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ واقعات کیوں پیش آئیں گے- اِس کا سبب یہ ہوگا کہ اُس زمانے میں مسلمان اپنے دورِ زوال میں پہنچ چکے ہوں گے- حدیث میں اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیاہے، وہ ’وَہن‘ ہے- وہن کا لفظی مطلب ہے — ضعف (weakness)- یہی داخلی ضعف ، نہ کہ کوئی خارجی سازش، اِس صورت حال کا اصل سبب ہوگا- امت کے دورِ وہن کو دوسرے الفاظ میں امت کا دورِ زوال کہاجاسکتا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content