قرآن اسلام کا مستند ٹیکسٹ ہے۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد فرد کا ارتقا ہے، اور فرد کا ارتقا صرف امن کے حالات میں ممکن ہو تا ہے۔مثلاقرآن میں ہے:الصُّلْحُ خَیْرٌ(4:128)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔صلح سے مراد امن ہے۔اور خیر کا لفظ یہاں طریقہ (method) کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس معاشرہ میں امن کے حالات ہوں وہاں وہ مواقع (opportunities) موجود ہوں گے جن کو استعمال کر کے ایک فرد کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مطلوب انداز میں اپنی شخصیت کا ارتقا کرسکے۔اس لحاظ سے امن اسلام میں خیر اعلی (summum bonum) کی حیثیت رکھتا ہے۔
قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق ایک مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ انسان اپنے اندر امن پسند شخصیت کی تعمیر کرے۔ اسلام کے لئے امن صرف ایک مجرد تصور نہیں، بلکہ اس کے ساتھ عذاب اور ثواب کا قانون جڑا ہوا ہے۔ یعنی جو فرد اپنے اندر امن پسند شخصیت بنائے اس کے لئے آخرت میں ابدی ثواب، دارالسلام (یونس 25:) ہے، اور جو فرد اپنے اندر امن پسند شخصیت کی تعمیر میں ناکام رہے، اس کے لئے آخرت میں ابدی عذاب ہے۔
اسلام کی یہ تعلیم امن پسندی کے ساتھ لزوم (compulsion) کا تصور شامل کر دیتی ہے۔ امن کے ساتھ سزا و جزا کے تصور کو شامل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امن کی خلاف ورزی پر لازمی سزا (inescapable punishment) ہے اور امن کا طریقہ اختیار کرنے پر لازمی انعام (guaranteed reward) ۔ ان دونوں انجام کا تعلق آخرت کی ابدی دنیا سے ہے، یعنی سزا بھی ابدی اور انعام بھی ابدی۔دنیا کےکسی قانونی نظام میں ابدیت کا یہ تصور شامل نہیں ہے، اس لئے دنیا کے کسی قانونی نظام میں امن پسندی کے لئے وہ طاقت ور محرک (strong incentive) موجودنہیں جو اسلام کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔