← Al-Risala October 2016Al-Risala October 2016
جنگ کے تین دور
Urdu · 6 min read
انسان پیدائشی طور پر خود پسند (egoist by birth) ہے۔ وہ دنیا کو اپنی پسند کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے۔دوسرے کا اعتراف کرنا انسان کے مزاج کے خلاف ہے۔انسان کی یہی وہ صفت ہے، جس سے مختلف قسم کے سماجی ٹکراؤ (social conflict ) پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سماجی ٹکراؤ جب تشدد کی حد تک پہنچ جائے تو اسی کو جنگ کہا جاتا ہے۔انسان کے اسی مزاج کی بنا پرتاریخ میں ہمیشہ ٹکراؤ کا ماحول قائم رہا ہے، نفرت، تشدد، جنگ سب اسی کی مختلف صورتیں ہیں۔
اس اعتبار سے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر جنگ کے تین دور ہیں، سیاسی جنگ (political war)، طبقاتی جنگ (class war)اور نظریاتی جنگ (ideological war)۔ قدیم تاریخ کا لمبا دور سیاسی لڑائیوں کا دور ہے۔یہ سیاسی لڑائیاں بنیادی طور پر زمینی علاقہ (territory) پر قبضہ کے لئے ہوتی تھیں۔انیسویں صدی میںکمیونزم (communism) کے عنوان کے تحت جنگ کی نئی صورت پیدا ہوئی ۔کمیونسٹ مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہر قسم کی برائی کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ سماجی تقسیم ہے۔اس تقسیم کو ختم کرکے بے طبقاتی سماج (classless society) بنادی جائے توایک ایسا سماج وجود میں آئے گا جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہوگا۔یہ نظریہ لوگوں کے درمیان کافی مقبول ہوا، یہاں تک کہ کمیونسٹ پارٹی کو یہ موقع ملا کہ وہ 1917 میں روس میں اپنی پہلی حکومت قائم کریں۔ جس نے بعد کو توسیع پاکر ایک سوپر پاور کی صورت اختیار کر لی، جس کوسوویت روس کہا جاتا تھا۔اس کے بعد دنیا میں مسلسل قسم کےدو متحارب بلاک (warring blocks )بن گئے۔ایک کی نمائندگی سوویت روس کر رہا تھا، اور دوسرے کی نمائندگی یو ایس اے (USA)۔ دو بڑی طاقتوں کا یہ ٹکراؤ 1991 میں ختم ہوا، جب کہ سویت یونین ٹوٹ گیا۔
سوویت یونین کے خاتمہ کے ساتھ عملا طبقاتی جنگ کا خاتمہ بھی ہوگیا۔ لیکن کمیونسٹ تحریک کے اثر سے ایک نیا فکری دور پیدا ہوا، جس کو نظریاتی جنگ کا دور کہا جاسکتا ہے۔نظریاتی جنگ کا یہ دورعمومی طور پر مقبول نہ ہو سکا لیکن بیسویں صدی کے مسلمانوں میں اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس صدی میں کچھ ایسے مسلم مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کی۔یہ سیاسی فکر عرب اور نان عرب ، دونوں علاقوں میں تیزی سے پھیل گیا۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system ) ہے۔ امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام کوساری دنیا میں قائم کریں۔اسلامی نظام کے سوا جو نظام دنیا میں رائج ہے، وہ طاغوتی نظام ہے۔امت مسلمہ کا نصب العین یہ ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس طاغوتی نظام کی تمام صورتوں کا خاتمہ کریں، اوراس کی جگہ عملاساری دنیا میں اسلام کا نظام قائم کردیں۔
بیسویں صدی میںاس مقصد کے تحت عرب دنیا اور غیر عرب دنیا میں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، ان تحریکوں نے پہلے لٹریچر کے ذریعے اپنی تحریک کا آغاز کیا۔جب انھوں نے دیکھا کہ لٹریچر کے ذریعے غالب قوتوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے تو انھوں نے الیکشن کے ذریعے ان قوتوں کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی ، مگر وہ الیکشن کے ذریعےبھی اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد انھوں نے غالب طاقتوںکے خلاف متشددانہ جنگ شروع کردی۔ مگر یہاں بھی ان کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔عظیم قربانیوں کے باوجود ان کے لئے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ غالب طاقتوں کو اقتدار سے ہٹائیں، اور اپنا سیاسی غلبہ قائم کرکے عالمی اسلامی حکومت کی طرف اپنا مارچ شروع کردیں۔
اس ناکامی کے بعد ان کے اندر ایک تیسرا مہلک دور شروع ہوا، جس کو عام طور پر خود کش بمباری (suicide bombing) کہا جاتا ہے، یعنی خود کو ہلاک کرکے اپنے مفروضہ دشمن کے زور کو توڑنا، اور اس کو ڈی اسٹیبلائز (de-stabilize) کرنا۔اسلام کے نام پر نظریاتی جنگ کا یہی وہ دور ہے جو اکیسویں صدی میں جاری ہے۔اس دور کی ایک مثال 11ستمبر2001 کا وہ واقعہ ہے ،جب کہ کچھ مسلم نوجوانوںنے اپنے آپ کو ہلاک کرکے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹرکو تباہ کیا۔
یہاں یہ سوال ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا نظریہ عملی ناکامی کے باوجود ختم کیوں نہیں ہوا، جیسا کہ دوسرے نظریات عملی طور پر ناممکن ثابت ہونے کے بعد ختم ہوگئے۔کیوں ایسا ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا نظریہ عملا ناکام ہونے کے باجود بدستور جاری ہے۔اُس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کرنے والوں نے اپنی اس تعبیر کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ قدیم تاریخ میں جنگ ہمیشہ دنیاوی نشانہ کی بنیاد پر ہوتی تھی۔جب لوگوں نے دیکھا کہ ان کا دنیاوی نشانہ ناقابل حصول بن چکا ہے۔ جمہوریت (democracy)، اور اقوام متحدہ (UNO) نے عملا اس کو ناممکن بنا دیاکہ کوئی قوم دوسری قوم کے علاقہ (territory) پر مستقل قبضہ قائم کرسکے، تو اس کے بعد عملا سیاسی جنگ کے دور کا خاتمہ ہوگیا۔ اسی طرح پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ نے ثابت کردیا کہ انسانوں کی طبقاتی تقسیم صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی قابلِ عمل نظریہ نہیں تو اس کے بعد کمیونزم کی عالمی تنظیم (کمیونسٹ انٹرنیشنل)ایک ناقابل عمل نظریہ کی حیثیت سے ختم ہوگیا، اور اسی کے ساتھ طبقاتی جنگ کا نظریہ بھی ۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کا نظریہ پیش کرنے والوں کے نزدیک اسلام ایک مکمل نظام صرف اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ ان کے نزدیک ایک متبادل سوشیو پولیٹیکل سسٹم ہے۔ بلکہ اسی کے اوپر اہل ایمان کی ابدی نجات کا انحصار ہے، یعنی ان کو کامیاب بنانے کے لئے یہی واحد نصب العین ہے۔ یعنی اگر وہ اسلام کو ایک مکمل نظام کی حیثیت سے قائم کرنے کی کوشش کریں تو ان کے لئے آخرت میں ابدی جنت ہے، اور اگر وہ ایسا نہ کریں توان کے لئے ابدی جہنم۔اسلام کی اس سیاسی تعبیر کے مطابق اہل ایمان کے لئے صرف دو میں سے ایک کا آپشن (option ) رہ گیا، یا تو اسلام کے عالمی نظام کو عملا قائم کر ڈالنا، یا اس نشانے کو حاصل کرنے کے لئے وہ غیر مختتم طور پر ٹکراؤ کو جاری رکھیں۔باعتبار عقیدہ ان دو کےسوا کوئی تیسرا آپشن ان کے لئے ممکن نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کے مطابق یہ معاملہ جنگ ورسس آیڈیالوجی کا معاملہ ہے، وہ جنگ ورسس جنگ کا معاملہ نہیں۔ آپ جنگ کرکے ان کو ہلاک کرسکتے ہیں، لیکن اس کے بعد جو لوگ بچیں گے، وہ بدستور اسی راستے پر چلتے رہیں گے۔ کیوںکہ ان کے نزدیک اس مقدس جنگ میں ہلاک ہوناجنت میںفوری داخلہ (instant entry) کا معاملہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں ہلاکت کا معاملہ۔اپنے عقیدے کے اعتبار سے وہ سمجھتے ہیں کہ ہلاک کرنے والوں نے ان کو ہلاک نہیں کیا، بلکہ شہید کا درجہ دے کر ان کی منزل مقصود، جنت میں پہنچا دیا۔