پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ اپنی پوری عمر اسی مشن کے لیے پُرامن طور پر کام کرتے رہے۔ توحید (oneness of God) کا عقیدہ، اسلام میں کلیدی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔توحید گویا اسلام کے درخت کا بیج (seed) ہے۔ جس آدمی کو توحید کی معرفت ہوجائے اس آدمی کی پوری زندگی صبغۃ اللہ (البقرۃ : 138)کی عملی تصویر بن جائے گی۔
پیغمبر ِ اسلام نے 23 سال تک اپنے مشن کے لیے کام کیا، تقریبا نصف حصہ مکہ میں اور بقیہ نصف مدینہ میں۔ اس مدت میں مختلف قسم کے تاریخی واقعات پیش آئے۔ یہ تاریخی واقعات اسلام کی آئڈیالوجی کا حصہ نہ تھے، بلکہ وہ زمانی سبب (age factor) کی بنا پر آپ کی زندگی کا حصہ بنے۔ توحید کی آئڈیالوجی آپ کے مشن کا اصل حصہ (real part)تھی، اور تاریخی عامل کے تحت جو واقعات پیش آئے، وہ آپ کے مشن کا اضافی حصہ (relative part)تھے۔
مگربعد کے زمانےکے علماء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا۔ مثلا آپ کے مکی دور میں کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے، رسول اللہ نے بتوں کے مسئلے پر قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا۔ بلکہ آپ نے یہی کیا کہ بتوں کی موجودگی کو عملا نظر انداز کرتے ہوئےلوگوں کے سامنے پر امن طور پر قرآن کا پیغام پہنچاتے رہے۔بعد کے علماء نے اس حکمت کو نہیں سمجھا، وہ مسئلہ (problem) کو نشانہ بناکر اس سے لڑتے رہے۔انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ پرابلم کو نظر انداز کرکے پرامن دعوت کا کام کریں۔
اسی قسم کی ایک مثال صلح حدیبیہ (Hudaybiya Agreement)ہے ۔ صلح حدیبیہ پیغمبرِ اسلام کی ایک سنت ہے۔ یہ سنت بتاتی ہے کہ فریقِ ثانی کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے، ان سے صلح کرلو، تاکہ دعوت کے مواقع تمھارے لیے کھل جائیں۔ دورِجدید کے علماء کے لیے باربار حدیبیہ جیسی صورت پیش آئی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں اِس پیغمبرانہ سنت پر عمل نہیں کیا۔ موجودہ زمانے میں نو آبادیات (colonialism)اور صہیونیت (Zionism)اس کی واضح مثالیں ہیں۔
لیکن یہی علماء رسول اللہ کی سنت جہاد کو دھوم کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ غیر متعلق دلائل اور خود ساختہ تعبیرات کے ذریعے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جہاد (بمعنی قتال) کی سنت سب سے بڑی سنت ہے۔ اس پر ہمیں ہر حال میں عمل کرناہے، خواہ ہمارے لوگ قتل کیے جائیں، اور ہماری جائدادوں کو تباہ کیا جائے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔کیا وجہ ہے کہ یہ علماء سنت کعبہ اور سنت حدیبیہ کو یک سر چھوڑے ہوئے ہیں، لیکن سنت جہاد (بمعنی قتال ) کو ہر قیمت پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حتی کی اس معاملے میں انھوں نے خودکش بمباری (suicide bombing) تک کو جائز کر رکھا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں علماء اور مسلم رہنما ؤں کے ذہن سے اسلام کا دعوتی مشن حذف ہوگیا۔ اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے۔ بقیہ تمام چیزیں اسی مشن کی نسبت سے اسلام کا حصہ بنتی ہیں۔ لیکن بعد کے زمانے کے علماء دعوت کے فریضہ سے عملاً بے خبر ہوگیے۔ اسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کی بعد کی لٹریری تاریخ (literary history)میںکوئی قابلِ ذکر کتاب دعوت الی اللہ کے موضوع پرموجود نہیں۔ فقہائے اسلام میں سے کسی فقیہ نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی۔ الغزالی ، ابن تیمیہ، عزالدین عبد السلام سے لے کر شاہ ولی اللہ دہلوی تک کسی نے بھی دعوت الی اللہ کے موضوع پر معلوم طور پرکوئی کتاب نہیں لکھی۔ جب کہ پوری لٹریری تاریخ میں تقریبا ہر شخص جہاد و قتال کے موضوع پر لکھتا اور بولتا رہا ہے۔
اس عمومی غفلت کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بعد کے دور کے تقریبا تمام علماء اور فقہاء، اسلام کے مشن کے بارے میں عمومی سطح پر ایک اجتہادی خطا کا شکار ہوگیے۔ وہ یہ کہ انھوں دعوت کواسلام کانشانہ سمجھنے کے بجائے، امتِ مسلمہ کے سیاسی غلبہ کو اسلام کا نشانہ سمجھ لیا۔ دعوت الی اللہ کا نشانہ پر امن جدو جہد کا مزاج بناتا ہے۔ جب کہ سیاسی غلبہ کا نشانہ جنگ و قتال کو امت مسلمہ کا نشانہ بنادیتا ہے۔ یہ نشانہ بلاشبہ پیغمبر کے نشانے کے مطابق نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔