قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لئے ابتلاء (test) کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کا ذکر سورہ البقرۃ میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْن (2:155-156)۔ اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جس ابتلا کا ذکر ہے، وہ ابتلاء بقدر شیٔ ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس سے مراد ابتلاء عام ہے جو ہر پیدا ہونے والے انسان کو ضرور پیش آتا ہے۔ اس ابتلاء عام میں کسی کا کوئی استثناء (exception)نہیں۔
دوسرا ابتلاء وہ ہے جس کو ابتلاء خاص کہا جاسکتا ہے۔ اس ابتلاء کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 33 میں ان الفاظ میں آیا ہے:ہُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا (الاحزاب 11:)۔ اس ابتلاء شدید کا ذکر قرآن میں غزوۂ احزاب کے ذیل میں آیا ہے۔ دونوں کے اسلوب میں فرق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نقصان بقدرِ شئ سے مراد عام نقصان ہے، جو کسی نہ کسی اعتبار سے ہر پیدا ہونے والے انسان کو پہنچتا ہے، خواہ وہ مومن ہو یا غیر مومن۔ لیکن ابتلاء شدید ایک خصوصی ابتلاء ہے، جس کا تعلق دعوتِ توحید کے مشن سے ہے۔ابتلاء کا یہ معاملہ اہل ایمان کے ساتھ پیش آتا ہے ، یعنی وہ لوگ جو توحید کے مشن کو اپنا مشن بنائیں۔
اس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی ایک اور آیت سے ملتی ہے، یہ آیت اصحابِ رسول کی دعا کی صورت میں قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے:رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286) ۔ ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ اس آیت میں دعا کی صورت میں دراصل اللہ تعالیٰ کے ایک فیصلے کا اعلان ہے، وہ یہ کہ انسانی تاریخ کو مینیج (manage) کر کے حالات میں ایسی تبدیلی لانا جس کے بعد یہ ممکن ہوجائے کہ توحید کی دعوت کا مشن جو اصحابِ رسول کے دور سے پہلے شدید مخالفت کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا، وہ موافقت کے ماحول میں کرنا ممکن ہو جائے۔
اس معاملے کو غزوۂ احزاب کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ غزوۂ احزاب جو 5 ھ میں ہوا تھا، اس میں اہل توحید اور اہل شرک کے درمیان ایک لمبی خندق کھودی گئی تھی۔ اس خندق کی بنا پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک حاجب (buffer)قائم ہو گیا، جس نے دونوں کے درمیان جنگ کے امکان کو ختم کردیا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اقوامِ متحدہ (UNO)کی عالمی تنظیم نے زیادہ بڑے پیمانے پر ایک حاجب (buffer) قائم کردیا ہے، جس نے تاریخ میں پہلی بار اس کو ممکن بنادیا ہے کہ توحید کا مشن عالمی سطح پر پر امن انداز میں چلایا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان کسی ٹکڑاؤ کی نوبت نہ آئے۔
آزادی نہ کہ اختیار
اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے، مگر اس کو اختیار حاصل نہیں— انسان اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے۔
ایک شخص کسی کو بے عزت کرنے کے لیے اپنی زبان کھول سکتا ہے، مگر کسی کا بے عزت ہونا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خود خدا اس کے لیے بےعزتی کا فیصلہ نہ کرے۔ ایک شخص کسی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ مگر وہ اس وقت تک کسی کو قتل نہیں کرسکتا جب تک اسی شخص کے ہاتھ سے اس کی موت مقدر نہ کردی گئی ہو۔ ایک شخص کسی کی جائداد پر قبضہ کرنے کی سازش کرسکتا، مگر اس کی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک خدا اپنی کسی مصلحت کے تحت اس کے حق میں ایسا فیصلہ نہ کردے۔(ڈائری، 1983)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔