قرآن میں کل تقریبا 6600 آیتیں ہیں۔ قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں بہت کم ایسی آیتیں ہیں جواحکام سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کی بیشتر آیتیں وہ ہیں جن میںاللہ کی تخلیقات کا بیان ہے۔ جن کو قرآن میں آیات اللہ، کلمات اللہ، آلاء اللہ جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ اللہ کی نشانیوں پر غور کرو، اور ان سے معرفت کا رزق حاصل کرو۔قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (الفاتحہ 1:)۔ قرآن کا پورا مجموعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے۔
اس مطالعے کے مطابق قرآن احکام کی کتاب نہیں ہے، بلکہ وہ معرفت کی کتاب ہے۔بعد کے زمانے میں قرآن کے مطالعے کے معاملے میں سب سے بڑا انحراف یہ ہوا کہ قرآن کی یہ خصوصیت علمائے امت کے ذہن سے اوجھل ہوگئی۔ وہ قرآن کو ایک کتابِ احکام کے طور پر دیکھنے لگے۔ جب کہ اصل حقیقت یہ تھی کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کو بتایا گیا ہے۔اصل حقیقت کے اعتبار سے قرآن کی حیثیت کتابِ معرفت کی ہے،لیکن امت کے بعد کے زمانے میں قرآن کو کتاب احکام کی حیثیت دے دی گئی — امت کے تمام بگاڑ کا اصل سبب یہی انحراف ہے۔یہ انحراف عباسی دور میں قرآن کے فقہی مطالعے کی صورت میں پیدا ہوا۔اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ قرآن کو فقہی احکام کے ماخذ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔بیسویں صدی کا یہ واقعہ اسی ذہن کی توسیع ہے ۔ اس دور میں ایسے علماء اور مفکرین پیدا ہوئے، جو قرآن کونظام (system) کے ماخذ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کے مطالعے کا نقطۂ آغاز (starting point) بدل گیا۔
یہ وہی ظاہرہ ہے جس کو حدیث میں اتباع یہود (البخاری، حدیث نمبر 3456) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ اس حدیث میں یہود کا اتباع سے مراد، زوال یافتہ امت کا اتباع ہے۔دورِ زوال میں یہود کے علماء نے موسوی دین کو موسوی شریعت کی حیثیت دے دی۔تورات اور تالمود کے حوالے سے ا نھوں نےایک مجموعہ ٔ احکام تیار کیا ، اور دین موسیٰ کے نام پر اسی کا چرچا کرنے لگے۔چنانچہ بعد کے زمانے میں یہودیت کا جوورزن (version) تیار ہوا وہ تمام ترقوانین (laws) پر مبنی تھا۔یہودیت کے اس ورزن میںمعرفت اور دعوت جیسی چیزیں تمام تر حذف ہوگئیں۔یہی واقعہ امت مسلمہ کے درمیان پیش آیا۔اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے علماء اور رہنماکے یہاں جس دین کا چرچا ہے، اس میں معرفت اور دعوت جیسی اصل تعلیمات حذف ہوگئی ہیں، اس کے بجائے سارا زور قوانین اور احکام پر دیا جارہا ہے، جس کو بطور خود وہ اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں۔ اسلام کو بطور سیاسی اور سماجی نظام پیش کرنا ، ان کا واحد نشانہ بن گیا ہے، اور معرفت اور دعوت جیسی چیزیں ان کے یہاں بھی اسی طرح حذف ہوگئی ہیں، جس طرح وہ اس سے پہلے یہود کے یہاں حذف ہوگئی تھیں۔
اس انحراف کو پولیٹیکل انٹرپریٹیشن آف اسلام یا مبنی بر نظام اسلام (system-based Islam) کہا جا سکتا ہے۔اس تصور دین کا نتیجہ ہے کہ امت میں ایک ابدی قسم کے ٹکڑاؤ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ٹکڑاؤابتدائی طور پردوسروں کو اپنا حریف (rival) سمجھنے کی صورت میں شروع ہوتا ہے، اور پھر بڑھ کر تشدد اور جنگ اور خود کش بمباری تک پہنچ جاتا ہے۔قرآن کو اگر کتابِ معرفت کے طور پر لیا جائے تواس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ قرآن کی آیتوں میں تدبر کرو، قرآن کے ذریعے خالق کی معرفت حاصل کرو، اور پھر خالق کی معرفت میں جینے والے بن جاؤ،یعنی وہ انسان جس کو قرآن میں ربانی انسان (آل عمران79:) کہا گیا ہے۔گویا قرآن اپنی اصل حیثیت کے اعتبار سے ہدایت خداوندی کی پیروی (following)کا نام ہے۔ مگر قرآن کی نظامی یا قانونی تعبیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن عملی نفاذ (implementation) کی کتاب بن گیا۔ اب امت کا نشانہ یہ قرار پایا کہ وہ موجودہ قانونی اور سیاسی نظام کو لڑکر بدلے، اور اس کی جگہ وہ قانونی اور سیاسی نظام نافذ کرے جس کو بطور خود اس نے اسلامی نظام کا درجہ دےد یا ہے۔
قرآن و سنت کے مطالعے کا یہی غلط اسلوب ہے جس نے عملاً دین اسلام کو دین یہود بنا دیا۔ دین اسلام کا اصل نشانہ کامل معنوں میں ایک پر امن نشانہ تھا۔ اس نشانے کا مرکزی تصور اَلْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پر مبنی پر امن کلچر وجود میں لانا ہے۔ لیکن دورِ زوال کی یہودیت کی اتباع کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام سیاست کا موضوع بن گیا۔لوگ اسلام کے سیاسی نظام کو قائم کرنے کے نام پر دوسری قوموں سے لڑنے لگے۔اور جب لڑائی کے باوجود مفروضہ سیاسی نظام قائم نہیں ہوا تو انھوں نے فتوی دیا کہ خود کش بمباری (suicide bombing) کے ذریعے مفروضہ باطل نظام کو ڈی اسٹبلائز (destabilize) کیاجائے۔ یہ فتویٰ سراسر غلط فتوی تھا۔ کیوں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق خودکشی یقینی طور پر ایک حرام فعل تھا۔ خود کشی کے ذریعے مرنے والا شخص ابدی طور پر جہنم کا مستحق بن جاتا ہے۔البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے کے ایک مسلمان نے ایک غزوہ میں شرکت کی ۔ وہ مخالفین اسلام کے مقابلے میں لڑا، اور بظاہر بڑے بڑے جہادی کارنامے انجام دیے، مگر آخر میں زخموں کی تاب نہ لاکر خودکشی کرکے اپنا خاتمہ کرلیا۔اس خودکشی کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنہ من أھل النار (البخاری، حدیث نمبر 2898 )۔ پیغمبرِ اسلام کے یہ الفاظ ہر اس شخص پر صادق آتے ہیں، جو خود کشی کرکے اپنے آپ کو ہلاک کرے۔کوئی شخص اگر اسلامی مفاد کے نام پر خودکشی کرے تب بھی وہ اس معاملے میںمستثنی نہیں قرار پائے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں تحریک (movement) صرف دو مقصد کے لئے چلائی جائے گی، ایک معرفت اور دوسرے دعوت۔کسی اسلامی تحریک کا پہلا نشانہ یہ ہوگا کہ ایسے افراد پیدا ہوں جو معرفتِ رب میں جینے والے ہوں، جو الحمد للہ کلچر کو اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کریں۔ اسی عمل کے نتیجے میں وہ شخصیت بنتی ہے جس کو قرآن میں مزکیٰ شخصیت (طہ 76 :) کہا گیا ہے۔ مزکی شخصیت والے افراد ہی وہ افراد ہیں، جن کو آخرت میں جنت کے ابدی باغوں میں جگہ ملے گی۔اس کے بعد اسلامی تحریک کا دوسرا نشانہ وہ ہے جس کو دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ یعنی پرامن انداز میں تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا۔ دعوت مکمل طور پر ایک غیر سیاسی مشن ہے، اس کا سیاست سے یا ٹکڑاؤ سے کوئی تعلق نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔