Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala October 2016
Al-Risala October 2016

ایکسپٹنس آف ریالٹی

Urdu · 3 min read

اسلام کا لفظی مطلب ہے سرنڈر کرنا(to surrender)۔ یہ سرنڈر تمام تر سلف چائس (self choice) پر مبنی ہوتا ہے۔ یعنی ایک شخص کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر ذاتی فیصلہ کے تحت اسلام کو اپنا چائس بناتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مطلب ہے حقیقتِ واقعہ کو دریافت کرکے اس کو ماننا۔

Islam means the acceptance of reality.

قرآن میں بار بار اس حقیقت کو دہرایا گیا ہے کہ اسلام میں کوئی زبردستی نہیں، یہ ہر آدمی کے ذاتی چائس کا معاملہ ہے۔ مثلا اس معاملہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے:فَمَنْ شَاۗءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْیَکْفُرْ(18:29)۔ یعنی جو شخص چاہے مانے اور جو شخص چاہے اس کا انکار کردے۔ وہی اسلام معتبر اسلام ہے جو آزادانہ فیصلہ کے تحت اختیار کیا گیا ہو۔ جبری اسلام کی کوئی قیمت اللہ کے یہاں نہیں۔ اسلام کی تمام تعلیمات اسی اصول پر مبنی ہیں۔ توحید، رسالت، آخرت، جنت اور دوزخ، سب میں آزادی کا یہی تصور شامل ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقتِ واقعہ کے اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنےذاتی مطالعہ اور آزادانہ غور و فکر کے ذریعہ اسلام کی آئڈیالوجی کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اس کے اندر ذہنی بھونچال پیدا کرتی ہے۔ پھر ایک حقیقت واقعہ کے طور پر وہ اس کا اعتراف کرتا ہے، اور اپنی زندگی کو اس حقیقت کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ یہ سب کچھ اول سے آخر تک آزادانہ ذاتی فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس پہلو سے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اسلام اعترافِ حقیقت (acceptance of reality) کا نام ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلام میں تشدد (violence) کا کوئی مقام نہیں۔ اسلام اور تشدد دونوں متضاد چیز یںہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس حقیقت کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اسلام سر تا سر پیروی (following) کا مذہب ہے، نہ کہ نفاذ (implementation) کا مذہب۔ جو لوگ اسلام کے نام پر تشدد کرتے ہیں، وہ غلط طور پر پیروی کے لفظ کو نفاذ کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ مثلا قرآن میں کہا گیا کہ اے لوگو، تم توحید کے پیرو (follower) بنو۔ قرآن کی یہ بات لازم کے صیغہ ( intransitive verb) میں ہے۔ اور لازم کے صیغہ میں اس کو لینے کی صورت میں اس میں کسی اعتبار سے بھی تشدد کا کوئی پہلو شامل نہیں ہوتا۔ لیکن جب قرآن کی اس تعلیم کو لازم کے صیغہ میں لینے کے بجائے اس کو بدل کر متعدی کے صیغہ(transitive verb) میں لیا جائے تو قرآن کی یہ پر امن تعلیم عملا مبنی بر تشدد تعلیم بن جائے گی۔ یعنی اس کا مطلب یہ بن جائے گاکہ توحید کو طاقت کے زور پر نافذ کرو، لوگوں سے لڑ کر ان کو موحد بناؤ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امن (peace) اور تشدد (violence) دونوں کی حیثیت نظریہ کی نہیں ہے، بلکہ طریقہ (method) کی ہے۔امن بھی ایک طریقہ ہے اور تشدد بھی ایک طریقہ۔ یہ دراصل نشانہ (target) ہے، جو کسی آئیڈیالوجی کو پرامن آیڈیالوجی یا پر تشدد آیڈیالوجی بناتا ہے۔اگر آپ کا نشانہ یہ ہو کہ لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں تو آپ اپنے مقصد کے حصول کے لئے امن کا طریقہ اختیار کریں گے۔ کیوں کہ محبت صرف پر امن نصیحت کے ذریعہ پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کا نشانہ سیاسی اقتدار (political rule) قائم کرنا ہے تو آپ تشدد کا طریقہ اختیار کریں گے۔ کیوں کہ لوگوں کے اوپر سیاسی اقتدار صرف طاقت کے ذریعہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

خبرنامہ الرسالہ مشن کی دعوتی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے۔ اس لیے مشن کے تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے تاثرات یا اہم دعوتی سرگرمیوں کا ریکارڈ ضروری تفصیل کے ساتھ روانہ فرمائیں، مثلاً تاریخ، مقام، اہم شخصیت کے ساتھ انٹریکشن کی صورت میں اس کا مکمل نام اور تعارف، دعوتی کام کی نوعیت کی وضاحت، کسی ادارے میں پروگرام کی صورت میں ادارے کا نام اور پروگرام کا موضوع،وغیر ہ، تاکہ اس کو خبرنامہ کے تحت شامل کیا جاسکے۔تفصیلات بذریعہ ای میل یا واٹس ایپ پر روانہ فرمائیں:

feedback@cpsglobal.org, Whatsapp. +91-9999944119

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content