الرسالہ مئی 2015 کے صفحہ 37 پر آپ نے تقدیر اور تدبیر کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے، اس میں آپ نے لکھا ہے کہ انسان کی آزادی یا مجبوری کا معاملہ ففٹی ففٹی کا ہے۔یعنی انسان اپنی ذات کے اعتبارسے آزاد ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسری جو چیز ہے وہ فطرت کا قائم کردہ انفراسٹرکچر ہے، اس انفراسٹرکچر کے بغیر انسان اپنے ارادے کا آزادانہ استعمال نہیں کر سکتا۔
مطلب یہ ہے کہ انسان انفراسٹرکچر کی رعایت کے ساتھ اپنی آزادی کا استعمال بنا روک ٹوک کرتا رہے گا اور کرسکتا ہے۔ اس میں اللہ کا کوئی active رول نہیں ہے، یعنی انسان کی دنیوی زندگی میں اللہ کی کوئی مداخلت نہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہماری فلاں ضرورت پوری کردے، ہمیں تندرست کردے، ہمارے قرضے ادا کروادے، وغیرہ۔ آپ کے مطابق اس قسم کی دعا کا کوئی مطلب نہیں، کیوں کہ اللہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ بس انفراسٹرکچر کی رعایت کے ساتھ جو چاہیں آپ کرسکتے ہیں۔ اللہ کا رول قیامت کے بعد شروع ہوگا۔ کیا آپ کے مضمون کا یہی مطلب ہے۔ (ایڈووکیٹ مرزا ابرار بیگ، بھوپال)
الرسالہ کے مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ عموم کے اعتبار سے ہے۔ عموم کے اعتبار سے اس دنیا میں انسان کا معاملہ یہی ہے۔ لیکن دعا کا معاملہ ایک استثنائی معاملہ ہے۔ دعا اگر اللہ کے نزدیک قابل قبول ہو تو اللہ ایسا کرتا ہے کہ وہ مداخلت کرکے انسان کی دعاپوری کردے۔
یہ بات ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: لاَ یَرُدُّ القَضَاءَ إِلاَّ الدُّعَاءُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر2139)یعنی قضا کو لوٹانے والی کوئی چیز نہیں سوادعا کے۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی دعا اگر اللہ کے نزدیک قابل قبول دعا ہو تو اللہ ایسا کرتا ہے کہ وہ حالات میں مداخلت کرکے اس کو دعا کرنے والے انسان کے لیے موافق بنادے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔