Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2015
Al-Risala October 2015

حکمت کا اصول

Urdu · 2 min read

ایک حدیث رسول کا ترجمہ یہ ہے: عبد اللہ ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ کہ عمر بن خطاب نے مدینہ کی مسجد کے دروازے پر دیکھا کہ ایک شخص ریشم کا کپڑا ( حلة سیراء)بیچ رہا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اس کو خرید لیں، اور اس کو آپ جمعہ کےدن اور وفود کی آمد کے موقع پر پہنیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ جو لوگ اس طرح کا کپڑا پہنیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے کپڑے آئے، آپ نے اس میں سے ایک کپڑا عمر بن خطاب کو دے دیا۔ عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ آپ مجھ کو پہننے کے لیے دے رہے ہیں۔حالاں کہ اس سے پہلے آپ نے اس طرح کے کپڑے کے بارے میںکہا تھا جو کہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میں نے یہ کپڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ تم خود اس کو پہنو۔ تو عمر بن خطاب نے یہ کپڑا اپنے بھا ئی کو پہننے کے لیے دے دیا، جو اس وقت مکہ میں شرک کے مذہب پر تھا، اس نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا ( أخا لہ بمکة مشرکا)۔صحیح البخاری، حدیث نمبر 886

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہاں یہ سوال ہے کہ ریشم کا ایک کپڑا جو مومن کے لیے پہننا درست نہ تھا، وہ مشرک کو کیوں دے دیا گیا۔ اس کا سبب تالیفِ قلب تھا۔یعنی مشرک کے دل کو نرم کرنا۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ بعد کو وہ مشرک اسلام میں داخل ہوگیا۔ تالیف قلب کا معاملہ حال کے اعتبار سے نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ مستقبل کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ تالیف قلب کے معاملے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ شخص آج کیسا ہے، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اگر اس سے تالیف قلب کا معاملہ کیا جائے تو کل وہ کیسا ہوسکتا ہے۔ تالیف قلب کا اصول مبنی بر مستقبل اصول ہے، نہ کہ مبنی بر حال اصول۔مزید یہ کہ تالیف قلب کے مقصد کے لیے کسی کو کچھ سامان دیا جائے تو وہ اس کی اپنی پسند کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ دینے والے کی پسند کے مطابق۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو تالیف قلب کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔ مثلا ً ایک مومن کو خود اپنے لیے سادہ کپڑا پسند ہوسکتا ہے، لیکن جب کسی شخص کو تالیف کے لیے کپڑا دینا ہو تو اس کو اچھا کپڑا دیا جائے گا نہ کہ سادہ کپڑا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content