حروف مقطعات قرآن کی 29 سورتوں کے شروع میں آئے ہیں۔کسی میں ایک حرف، کسی میں دو حروف، اور کسی میں زیادہ حروف۔یہ حروفِ مقطعات پر اسرار(mysterious)نہیں ہیں۔ بلکہ وہ نہایت بامعنی ہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
حروفِ مقطعات کا مطلب الگ الگ حروف (disjointed letters)ہیں۔یہ حروف وہی ہیں جو حروفِ تہجی (alphabets) کے لیٹرہوتے ہیں۔ہر زبان کے الفاظ حروفِ تہجی کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ حروفِ مقطعات کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کسی ملکوتی زبان یا ملااعلی کی زبان میں نہیں ہے، بلکہ وہ انسانی زبان میں ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے وہی اسلوب اختیار کیا جائے گا، جو انسانی زبان کو سمجھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ مثلا قرآن میں آیا ہے : وَکَأَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیرٌ (3:146)۔ یہاں قاتل لفظی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدید جدو جہد کے معنی میں ہے۔ یعنی پیغمبر کے ساتھیوں نے دعوت کی پرامن کوشش میں پوری طاقت صرف کردی۔
یہ اسلوب انسانی زبان میں عام ہے۔ مثلا ریلیف ورک تیزی سے ہورہا ہو تو اس کو کہا جاتا ہے کہ ریلیف کا کام جنگی پیمانے پر (on a war footing) انجام دیا جارہا ہے، وغیرہ۔اس طرح کی بہت سی مثالیں قرآن میں ہیں۔ قرآن کی اس قسم کی آیتوں کو اسی وقت صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو زبان کے عام اسلوب کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
حروفِ مقطعات کا مطلب اشارے کی زبان میں یہ ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، لیکن وہ انسان کے لیے اترا ہے۔ اس لیے قرآن کا اسلوب وہی ہے جو انسانی کلام کا اسلوب ہوتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہِ (14:4) یعنی ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پیغمبر کے ذریعے آنے والا کلام لوگوں کے لیے ایک پر اسرار کلام بن جاتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔