ایک مشہور جماعت کے بانی اپنی ایک کتاب میں دین کا مفہوم بتاتے ہوئےلکھتےہیں: دین کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو زمانۂ حال میں اسٹیٹ کے معنی ہیں، لوگوں کا کسی بالاتر اقتدار کو تسلیم کرکے اس کی اطاعت کرنا ، یہ اسٹیٹ ہے، یہی دین کا مفہوم بھی ہے۔ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش، حصۂ سوم)
اس اقتباس کا علمی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں دین کی تشریح بھی درست نہیں، اور اسٹیٹ کی تشریح بھی درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ادبی جملہ ہے، وہ دین اور اسٹیٹ کے بارے میں کوئی علمی بیان نہیں۔
لفظ دین کا مطلب اصلا وہی ہے جس کو مذہب (religion) کہا جاتا ہے۔ دین کا لفظ جب اسلام کے لیے بولا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان کے لیے خدا کی وہ ہدایت جو محفوظ حالت میں آج تک موجود ہے۔دین کے لفظ میں اصولی اعتبار سے سیاست کا مفہوم شامل نہیں۔
اسٹیٹ کا مطلب ریاست ہے۔ اسٹیٹ ایک اجتماعی ہیئت ہے۔ علمی اعتبار سے اسٹیٹ کے چار اجزاء ہوتے ہیں— آبادی، رقبہ، اقتدار، حکومت:
population, territory, sovereignty, government
جدید تصور کے مطابق، ریاست ایک مستقل (permanent)چیز ہے، اور حکومت (government) ایک وقتی چیز ۔ جمہوریت کےنظام میں حکومت کسی شخص یا خاندان کی اجارہ داری نہیں، وہ ہر چند سال کے بعد الیکشن کے ذریعے بدلتی رہتی ہے۔
مزید یہ کہ موجودہ زمانے میں حکومت کا تعلق انتظامیہ (administration) سے ہوتا ہے۔بقیہ شعبے اصولا آزادشعبے ہیں۔ مثلا تعلیم اور اقتصادیات، وغیرہ۔انھیں آزاد شعبوں میں دعوت کا کام بھی شامل ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔