مشن کا تصور پہلے ایک انسان کےدماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ انسان اس کو عملاً شروع کرتاہے، لیکن کسی مشن کی کامیابی اس کے بغیر نہیں ہوتی کہ بہت سے لوگ اس کا ساتھ دیں۔ ان ساتھ دینے والوں کو بلاشرط صاحب مشن کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ان کا مزاج مشروط ساتھ دینے والا ہو تو وہ پوری طرح مشن میں اپنا حصہ ادا نہیں کرسکیں گے۔ کسی نہ کسی مقام پر وہ کوئی شکایت یاکوئی عذر (excuse)لے کر صاحب مشن کا ساتھ چھوڑ دیںگے۔
بلا شرط صاحب مشن کا ساتھ دینا کوئی شخصیت پرستی (personality cult) کا معاملہ نہیں۔ وہ شعوری ارتقا کا معاملہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ دو انسانوں کی فکری سطح (wavelength) ایک ہوجائے۔ جب ایسا ہوجائے تو انسان ذہنی اعتبار سے اس درجے میں پہنچ جاتا ہے کہ اس کی فکر الگ نہ ہو۔ اس قسم کے افراد جب کسی مشن کے گرد اکٹھاہوں اسی وقت وہ مشن کامیاب ہوتاہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُم بُنْیَانٌ مَّرْصُوصٌ(61:4)یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتاہے جو اس کے راستے میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
یہ ایک کامل اتحاد کا معاملہ ہے۔ اس قسم کا اتحاد صرف اس وقت پیدا ہوتاہے جب کہ صاحب مشن اور مشن کے ساتھیوں کی فکری سطح پوری طرح ایک ہوگئی ہو۔اس کامل اتحاد کا تعلق میدان جنگ سے بھی ہے اور اس حالت سے بھی ہے جب کہ جنگ نہ ہورہی ہو، بلکہ پر امن انداز میں اسلام کا کام کیا جارہا ہو۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کو ئی بڑا کام ایک شخص نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے افراد کے درمیان کامل اتحاد ضروری ہے۔ یہ اتحاد خود ایک عظیم عبادت ہے۔ اس عبادت میںکوئی شخص صرف اس وقت پورا اترسکتا ہے، جب کہ وہ شعوری پختگی کے درجے تک پہنچ چکا ہو۔ وہ ایک معاملہ اور دوسرے معاملے کے درمیا ن فرق کرنا جانتا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔