Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2015
Al-Risala October 2015

بلاشرط ساتھ دینا

Urdu · 2 min read

مشن کا تصور پہلے ایک انسان کےدماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ انسان اس کو عملاً شروع کرتاہے، لیکن کسی مشن کی کامیابی اس کے بغیر نہیں ہوتی کہ بہت سے لوگ اس کا ساتھ دیں۔ ان ساتھ دینے والوں کو بلاشرط صاحب مشن کا ساتھ دینا چاہئے۔ اگر ان کا مزاج مشروط ساتھ دینے والا ہو تو وہ پوری طرح مشن میں اپنا حصہ ادا نہیں کرسکیں گے۔ کسی نہ کسی مقام پر وہ کوئی شکایت یاکوئی عذر (excuse)لے کر صاحب مشن کا ساتھ چھوڑ دیںگے۔

بلا شرط صاحب مشن کا ساتھ دینا کوئی شخصیت پرستی (personality cult) کا معاملہ نہیں۔ وہ شعوری ارتقا کا معاملہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ دو انسانوں کی فکری سطح (wavelength) ایک ہوجائے۔ جب ایسا ہوجائے تو انسان ذہنی اعتبار سے اس درجے میں پہنچ جاتا ہے کہ اس کی فکر الگ نہ ہو۔ اس قسم کے افراد جب کسی مشن کے گرد اکٹھاہوں اسی وقت وہ مشن کامیاب ہوتاہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِہِ صَفًّا کَأَنَّہُم بُنْیَانٌ مَّرْصُوصٌ(61:4)یعنی اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتاہے جو اس کے راستے میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک کامل اتحاد کا معاملہ ہے۔ اس قسم کا اتحاد صرف اس وقت پیدا ہوتاہے جب کہ صاحب مشن اور مشن کے ساتھیوں کی فکری سطح پوری طرح ایک ہوگئی ہو۔اس کامل اتحاد کا تعلق میدان جنگ سے بھی ہے اور اس حالت سے بھی ہے جب کہ جنگ نہ ہورہی ہو، بلکہ پر امن انداز میں اسلام کا کام کیا جارہا ہو۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کو ئی بڑا کام ایک شخص نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے افراد کے درمیان کامل اتحاد ضروری ہے۔ یہ اتحاد خود ایک عظیم عبادت ہے۔ اس عبادت میںکوئی شخص صرف اس وقت پورا اترسکتا ہے، جب کہ وہ شعوری پختگی کے درجے تک پہنچ چکا ہو۔ وہ ایک معاملہ اور دوسرے معاملے کے درمیا ن فرق کرنا جانتا ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content