تحریر کے دو طریقے ہیں— بیانیہ اسلوب، اور تجزیاتی اسلوب۔ بیانیہ اسلوب یہ ہے کہ آدمی ایسی بات کہے جو اس کے اپنے ذہن کی بات ہو، لیکن اس کے ذہن کے باہر اس کاکوئی واقعاتی مصداق موجود نہ ہو۔ مثلا یہ کہنا کہ مغرب میں استشراق نوآبادیاتی حکومتوں کو تقویت پہنچانے کے لیے پیدا ہوا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے ساتھ ضروری دلیل شامل نہیں۔
تجزیاتی اسلوب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ مستشرقین کا تصور ہر لحاظ سے مختلف تھا۔ اس کے لحاظ سے انھوں نے چیزوں کا مطالعہ کیا۔ مثلا وہ سمجھتے تھے کہ مذہب ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon)ہے۔ اپنے اس تصور کے مطابق انھوں نے مذہب کی باتوں کی توجیہہ بیان کی۔ یہ تصور مسلم علماء کے تصور کے خلاف تھا۔ مسلم علماء اس پر مشتعل ہوگیے۔ مگر مسلم علماء کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مستشرقین کے مذہبی تصور کا تجزیہ دلائل کی زبان میں کرتے۔ اس کے برعکس، وہ اس قسم کی الزامی باتیں کہنے لگے کہ استشراق اہل مغرب کی سازش ہے۔
مسلم اہل قلم نے استشراق کے خلاف بہت سی کتابیں شائع کی ہیں۔ مگر راقم الحروف کے علم کے مطابق یہ کتابیں ردعمل کی مثالیں ہیں، ان میں سے کوئی بھی کتاب غالباً علمی تجزیہ کی مثال نہیں۔
جدید استشراق دراصل سائنٹفک نقطۂ نظر کے تحت پیدا ہوا۔ سائنسی طریقِ مطالعہ میں چیزوں کو معلوم ظواہر کے اعتبار سے آبجیکٹیو (objective) طورپر جانچا جاتا ہے۔ اس طریقِ مطالعہ میں یہ بات خارج از بحث ہے کہ چیزوں کو وحی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس طریقِ بحث نے علماء کو استشراق کے بارے میں منفی سوچ میں مبتلا کردیا ہے۔ مگر منفی سوچ کے تحت استشراق کے خلاف بیانات دینا بے فائدہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے استشراق کا تجزیہ علمی حقائق کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس زمانے میں تجزیاتی اسلوب کی قیمت ہے، بیانیہ اسلوب کی اس زمانے میں کوئی قیمت نہیں۔ بیانیہ اسلوب میں لکھی ہوئی چیزیں صرف ردی کی ٹوکری میں جگہ پاتی ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔