Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2015
Al-Risala October 2015

عدم اعتراف

Urdu · 2 min read

ایک صاحب نے کہا کہ میرے ملنے والوں میں ایک شخص ہے جو بہت اچھی باتیں کرتا تھا۔ پھر اس کے کہنے پر میں نے اس کو بزنس شروع کرنےکے لیےکچھ رقم دے دی۔ اس کا بزنس کامیاب ہوگیا۔ لیکن اب وہ مجھ سے بات نہیں کرتا۔ رقم کی واپسی کا بھی کوئی ذکر نہیں کرتا۔ میں نے کہا کہ یہ تو عام بات ہے جس کے ساتھ بھی آپ کوئی اچھاسلوک کریں گے وہ بعد کو آپ کے لئے اجنبی جیسا بن جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عطیہ کے بارے میں انسان کا یہ عام مزاج ہے۔ عطیہ پانے سے پہلے وہ عطیہ کو دوسرے کی چیز سمجھتا ہے، مگر عطیہ پانے کے بعدوہ اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیتاہے۔ انسان کے اس مزاج کی وجہ سے بے اعترافی کا کلچر ہر سماج میں پایا جاتا ہے۔

انسان جب انسان کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے تو وہ اس کا عادی بن جاتا ہے۔ پھر انسان کے ساتھ اس کی ناشکری خالق کے ساتھ ناشکری تک پہنچ جاتی ہے۔ خالق کی طرف سے انسان کو اتنی زیادہ چیزیں ملی ہوئی ہیں کہ ان کی گنتی نہیں ۔ چونکہ یہ چیزیں انسان کو پیدا ہونے کے بعد اپنے آپ مل جاتی ہیں اس لئے اپنے عام مزاج کے مطابق انسان یہ کرتاہے کہ ملی ہوئی چیز کو وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لیتاہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ان چیزوں کو خالق کا عطیہ نہیں سمجھتا بلکہ ان کو اپنی محنت سےحاصل کی ہوئی چیز سمجھتا ہے۔

انسان کا یہی مزاج ہے جس کی وجہ سے وہ انسان کے عطیات کا اعتراف نہیں کرتا۔ اسی طرح وہ خالق کے برتر عطیات کا بھی اعتراف نہیں کرتا۔ وہ انسان کے بارےمیں بھی ناشکری کا معاملہ کرتاہے اور خالق کے معاملہ میں بھی ناشکری کا معاملہ ۔ یہ بے حد خطرناک بات ہے۔ شکر (acknowledgment) سب سے بڑی نیکی ہے۔ یہ نیکی انسان کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور خدا کی نسبت سے بھی۔ جو آدمی اس نیکی سے خالی ہو، وہ یقینا دوسری نیکیوں سے بھی خالی ہوجائے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content