حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تواضع للہ درجة رفعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی علیین، ومن تکبر على اللہ درجة، وضعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی أسفل السافلین (مسند احمد، حدیث نمبر11724)۔یعنی جس نے اللہ کے لیے تواضع اختیار کی ایک درجہ تو اللہ اس کو ایک درجہ بلند کرتاہے ، یہاں تک کہ اس کو علیین میں پہنچا دیتا ہے۔ اورجس نے اللہ کے مقابلے میں کبر کی روش اختیار کی ایک درجہ تو اس کو اللہ ایک درجہ نیچے کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیتا ہے۔
یہ کو ئی پر اسرار بات نہیں بلکہ وہ اس دنیا کے لیےاللہ کا ایک مقرر کردہ فطرت کا قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر وہ اوصاف پیدا ہونے لگتے ہیں جو کہ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی بڑا کام انجام دے۔ لیکن بڑا کام انجام دینے کے لیے ہمیشہ اعلی صفات درکار ہوتی ہیں۔ جس کو قرآن میں خُلْق عظیم (68:4) کہا گیاہے۔ خُلْق عظیم سے مراد اعلی اخلاق (sublime character)ہے۔اعلی اخلاق کے بغیر کوئی شخص کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔
فطرت کے قانون کے مطابق ایسے انسان کو ہر قسم کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس کبر پسند انسان اللہ کا غیر مطلوب انسان ہے۔ایسے انسان کو اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ اس کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے۔ اور جس انسان کا ساتھی شیطان بن جائےاس کے لیے خدا کی دنیا میں ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ اور مقدرنہیں۔لوگ عام طور پر اپنی ذات میں جیتے ہیں، ایسے لوگ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ بڑا کام کرنے والا وہ شخص ہے جو اپنی ذات کے باہر جینے والا بن گیا ہو، جو دینے والا بن کر جیے، نہ کہ صرف لینے والابن کر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔