قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:وَسَخَّرَ لَکُم مَّا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیعًا مِّنْہُ ۚ إِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ(45:13) یعنی اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمھارے لئے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں۔
ایک انسان اگر کسی بلند مقام پر کھڑا ہو کر اپنے چاروں طرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھے اور نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو سوچے تو وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا، اس دنیا میں تو نے سب کچھ مجھے بلااستحقاق اور بلا طلب دے دیا۔ یہ سوچ اس کو آخرت کی یاددلائے گی، اور پھر وہ کہہ اٹھے گا خدایا، آخرت میں بھی تو میرے ساتھ اسی طرح رحمت کا معاملہ فرما۔ تو مجھ کو بلاحساب جنت میں داخل کردے۔
انسان کے اندر اگر ایمانی بیداری ہو، اور اس کے اندر اعلی درجے کا ایمانی شعور پیداہوجائے تو اس کو بار بار اس طرح کا تجربہ ہوگا۔ وہ اپنے اندر خالق کو دریافت کرے گا۔ وہ کائنات کی ہرچیز میں رب السموات والأرض کا مشاہدہ کرے گا۔ ہر تجربہ اس کے لیے ربانی تجربہ بن جائے گا۔ انہی ربانی تجربات کے درمیان وہ جنتی شخصیت بنتی ہے جس کو مزکیّٰ شخصیت (purified soul) کہاجاتا ہے۔ جنت کسی کو کسی خارجی چیز پر نہیں ملے گی، بلکہ خود اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کے ذریعہ ملے گی۔ ربانی شخصیت کی تعمیر کا یہ معاملہ پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ ایمانی شعور پیدا ہونے کے بعدوہ انسان کے اندر ساری عمر جاری رہتاہے، یہاں تک کہ انسان اپنی عمر پوری کرکے اپنے رب سے جاملتا ہے۔
قرآن و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت کی چیز اللہ کا ذکر ہے۔ ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انگلیوں پر یا تسبیح کے دانوں پر اللہ کے لفظ کا ورد کیا جاتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا تصور آدمی کے ذہن میں اس طرح سما جائے کہ وہ انسان کے فکری عمل (thinking process) میں شامل ہوجائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔