پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن قلوب بنی آدم کلہا بین إصبعین من أصابع الرحمن، کقلب واحد، یصرّفہ حیث یشاء (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2654)یعنی بنی آدم کے دل سب کے سب اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوںکے درمیان ہیں، ایک دل کی طرح، اللہ انسان کے دل کو پھیردیتا ہے جس طرح چاہتا ہے۔
اس حدیث میں انسانی زندگی کی ایک حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اللہ جب کسی کام کو انجام دینا چاہتا ہے تو وہ انسانوں کے دل میں یا کسی ایک انسان کے دل میںوہ بات ڈال دیتا ہے، جو اس وقت مطلوب ہے۔اس طرح انسان داخلی تحریک کے تحت حرکت میں آجاتا ہے۔ اور پھر وہ کام انجام پاجاتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو محسوس ہو کہ فلاں شخص یا فلاں لوگ اس کے راستے میں رکاوٹ ہیں، تو وہ انسان سے ٹکراؤ نہ کرے، کیوں کہ اصل مسئلہ اللہ کا ہے نہ کہ انسان کا۔ اس کو چاہیے کہ بظاہر انسان کا مسئلہ ہو تب بھی وہ اس کو اللہ سے مانگے، وہ اس کے لیے اللہ سے دعا کرے۔ اگر اللہ چاہے گا تو وہ متعلق انسان کے دل کو پھیر دے گا۔ اور وہ متحرک ہوکر ضروری کام انجام دے دے گا۔
اس حدیث سے یہ اصول معلوم ہوتا ہے کہ اگر معاملہ بظاہر انسان سے ہو تب بھی اس کو اللہ کا معاملہ سمجھنا چاہیے، اور اس کی تکمیل کے لیے اللہ سے مدد مانگنا چاہیے۔اگر اللہ چاہے گا تو وہ دخل دے کر کام بنادے گا، اور اگر اللہ کی مرضی نہ ہوگی تو کوئی بھی سرگرمی یا ہنگامہ آرائی کام بنانے والی نہیں۔ اللہ کا طریقہ خاموشی کے ساتھ مینج (manage) کرنے کا طریقہ ہے۔ اللہ کا یہ عمل بظاہر دکھائی نہیں دیتا، لیکن وہ ضرور اپنا عمل کرتا ہے۔ اگر انسان کی دعا اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ہوتو اللہ اس کو ضرور پوری کرے گا۔ بشرطیکہ انسان اپنے غلط کارروائی کے ذریعے معاملے کو بگاڑ نہ دے۔ اس معاملے میں انسان کو صبر کو ثبوت دینا ہوگا۔ جو کہ قبولیت دعا کی لازمی شرط ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔