پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: ألا إنَّ الدنیا ملعونةٌ ملعونٌ ما فیہا، إلا ذکرُ اللہِ وما والاہُ، وعالمٌ، أو متعلمٌ(سنن الترمذی، حدیث نمبر : 2322)۔ دنیا ملعون ہے، اس کے اندر جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کی یادکے اور وہ چیز جو اللہ سے قریب کرنے والی ہو، اور جاننے والا، اور سیکھنے والا۔
اس حدیث میں ملعون کا مطلب بے قیمت (valueless) ہونا ہے۔ یہ بات آخرت کے مقابلے میں کہی گئی ہے۔ اسلامی تصور کے مطابق اصل اہمیت آخرت کی ہے۔اس نسبت سے دنیا کی کامیابی بھی بے قیمت ہے، اور یہاں کی ناکامی بھی بے قیمت۔ دنیا کی کامیابی اور ناکامی میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
دنیا کے کسی واقعے یا کسی تجربے کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ اس کو آخرت کے اعتبار سے جانچا جائے۔جانچنے کے اس معیار کو ایک لفظ میں معرفت کہا جاسکتا ہے۔دنیا میں انسان کے ساتھ جو تجربہ گزرے، وہ خواہ مثبت تجربہ ہو یا منفی تجربہ، وہ اس وقت باقیمت ہے جب کہ وہ انسان کی معرفتِ خدا میں اضافہ کرنے والا ہو۔جو تجربہ معرفت میں اضافہ نہ کرے، اس کی کوئی قیمت نہیں۔
دنیا کا ہر تجربہ اپنے اندر معرفت کا ایک پہلو رکھتا ہے۔آدمی کوچاہئے کہ وہ دنیا کے ہر تجربے میں معرفت کے اس پہلو کو دریافت کرے، وہ مسلسل طور پر اپنے علمِ الٰہی کو بڑھاتا رہے۔دنیا کا ہر واقعہ باعتبارِ حقیقت اس لئے ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر معرفت کے سفر کو مسلسل طور پر جاری رکھے۔ دنیا کی زندگی کو جانچنے کا معیار یہ نہیں ہے کہ آدمی نے مادی طور پر کیا کھویا اور کیا پایا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے ذہن میں معرفت کا سفر جاری ہے یا نہیں۔اگر آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا بیدار ہو کہ دنیا کے نشیب و فرا ز کے باوجود معرفت کا سفراس کے ذہن میں مثبت طور پر جاری ہے تو ایسا انسان ایک کامیاب انسان ہے۔حدیث میں عالم کا لفظ معرفت کی دریافت کرنے والے کے معنی میں ہے، اور متعلم وہ ہے جو معرفت کی دریافت میں لگا ہوا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔