قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے ضعیف (4:28)پیدا کیا ہے۔ یعنی انسان پیدائشی طورپر یہ احساس لے کر پیدا ہوتاہے کہ میں ایک عاجز مخلوق ہوں۔ اپنے عجز کی تلافی کے لئے وہ ہمیشہ ایک سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس چیز کو معبود کہاجاتا ہے۔ ایک خالق کے سوا کسی اورکو معبود بنانا یہ شرک ہے۔ انسان کے لئے حقیقی سہارا صرف ایک ہے اور وہ اللہ رب العالمین ہے- یہ سہارا اگر چہ بظاہر غیب میں ہے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ انسان کے بالکل قریب (2:186)موجود ہے- یہ قربت اتنی زیادہ حقیقی ہے کہ حدیث کے الفاظ میں ہمیشہ وہ اس سے سرگوشی کرتا رہتاہے۔ بظاہر اس کا معبود مادی اعتبار سے اس کے قریب نظر نہیں آتا، لیکن انسان کے لئے ہر وقت یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ نفسیاتی اعتبار سے اپنے رب سے مکمل ربط حاصل کرسکے۔ یہ ایک ایسا ربط (contact) ہے جو بظاہربراہ راست ملاقات کے بغیر حاصل ہوتا ہے۔ جس انسان کا ذہنی ارتقاء اعلی صورت میں ہوا ہو، وہ ہر لمحہ اس اعلی ربط (high contact) کا تجربہ کرتا ہے۔ ایسا انسان جب بھی دوسری چیزوں سے کٹ کر اپنے اندر detached thinking کی کیفیت پیدا کرتا ہے تو وہ محسوس کرتاہے کہ وہ اپنے رب سے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ حتی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کے انداز میں بات کررہا ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یناجی ربہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 405)
ربط کے بغیر اپنے رب سے ملاقات کا یہ تجربہ بلاشبہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑا تجربہ ہے۔ یہ تجربہ ہر انسان کے لئے ممکن ہے بشرطیکہ وہ اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرے۔براہ راست ربط کے بغیر ملاقات قدیم زمانے میں ایک بعید چیز معلوم ہوتی تھی۔ مگر موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن کی ترقی نے اس معاملے کو انسان کے لیے قابلِ فہم بنادیا ہے۔موجودہ کمیونی کیشن گویا براہ راست ربط کے بغیر ملاقات کا ایک مظاہرہ (demonstration)ہے۔خدا سے انسان کا یہی ربط نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔