ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: یَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِی، مَالِی، إِنَّمَا لَہُ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ: مَا أَکَلَ فَأَفْنَى، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى، أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى، وَمَا سِوَى ذَلِکَ فَہُوَ ذَاہِبٌ، وَتَارِکُہُ لِلنَّاسِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2959) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال۔ حالاں کہ اُس کے مال میں اس کے لئے صرف تین چیزیں ہیں —جو اس نے کھایا اور ختم کردیا یا جو اس نے پہنا اور بوسیدہ کردیا یا جو اس نے صدقہ کیا اور وہ اس کے لئے ذخیرۂ آخرت بن گیا۔ اس کے سوا جو ہے، وہ بہرحال چلاجانے والاہے اور وہ اس کو لوگوں کے لئے چھوڑدینے والا ہے۔
انسان جب پیدا ہوتا ہے، اوروہ دنیا میںزندگی گزارتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کچھ سامان حیات ہے جو بظاہر اس کا اپنا ہے۔ وہ کوئی معاشی کام کرتا ہے جس کے ذریعے وہ کچھ مال کماتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ مال میری کمائی ہے۔ مال یا مال کے ذریعے حاصل کی ہوئی چیزوں کے بارے میں اس کا یہ ذہن بنتا ہے کہ یہ تمام چیزیں میری اپنی ہیں،میں ان کا مالک ہوں، مجھے حق ہے کہ میں جس طرح چاہوں ان کو استعمال کروں۔لیکن موت آدمی کے اس خیال کی مکمل تردید کردیتی ہے۔ موت بتاتی ہے کہ آدمی کے پاس کوئی بھی چیز اس کی ذاتی چیز نہیں، اس کی کوئی بھی ملکیت اس کے پاس ہمیشہ ساتھ رہنے والی نہیں۔ موت آدمی کو اس کے مال اور اس کے تمام اسباب سے جدا کردیتی ہے۔ موت کے بعد آدمی اچانک اکیلا ہوجاتا ہے۔ یہی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کرلے، وہ اپنے مال کو یا اپنے اسباب کو اس طرح استعمال کرے گا جو موت کے بعد کی زندگی میں اس کے کام آنے والا ہو۔ اس حقیقت کو جانے بغیر اس کی زندگی دنیا رخی زندگی ہوتی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو جاننے کے بعد اس کی زندگی آخرت رخی زندگی بن جاتی ہے۔یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جو ہر آدمی کو جاننا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔