قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان پر وقت کے ارباب اقتدار نے ظلم کیا۔ اس کو کچھ لوگوں نے سیاسی ظلم کے معنی میں لے لیا اور کہا کہ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اپنے وقت کے سیاسی اقتدار پر قبضہ کرکے نیا نظام بنانا چاہتے تھے ۔ یہ ارباب اقتدار کے لئے ایک سیاسی خطرہ تھا اس لئے انھوں نے پیغمبروں پر ظلم کیا۔
اس معاملہ کی یہ تفسیر بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبروں کے ساتھ جو ظلم کیاگیا وہ مشرکانہ ظلم تھا نہ کہ سیاسی ظلم۔ یہ بات قرآن سے ثابت ہے۔ مثلا قرآن میں کہاگیا ہے : وَمَا نَقَمُوا مِنْہُمْ إِلَّا أَن یُؤْمِنُوا بِاللَّہِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ(85:8)۔ یعنی اور ان کی ان سے دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جو زبردست ہے، تعریف والا ہے۔
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی عدم رواداری (religious intolerance) کا کلچر قائم تھا۔ اس بنا پر پیغمبر جب ایک نئے مذہب کی تبلیغ کرتاتومروجہ مذہب کے ذمے دار پیغمبر کے خلاف تشدد کرنے لگتے۔ یہ تشدد تمام تر مذہبی تشدد تھا، اس کا کوئی تعلق سیاست اور حکومت سے نہ تھا۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو پیغمبراسلام کے علاوہ دوسرے تمام پیغمبروں نے صرف پرامن دعوت کا کام کیا ہے۔ کسی نے زمین پر حکومت قائم نہیں کی۔حالاں کہ اگر پیغمبروں کا مشن سیاسی ہوتا تو ضروری تھا کہ اللہ کی مدد سے ان کو زمین پر سیاسی غلبہ حاصل ہو۔مگر ایسا نہیں ہوا۔ قرآن میں پیغمبروں کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی (58:21) یعنی اﷲ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ قرآن کی یہ آیت تمام پیغمبروں کے بارے میں ہے، وہ کسی ایک پیغمبر کے بارے میں نہیں۔ ایسی حالت میںتمام پیغمبروں کو اپنے زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل ہونا چاہیے تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے ایسا نہیں ہوا ۔ قرآن کی اس آیت میں غلبہ سے مراد نظریاتیغلبہ ہے، نہ کہ سیاسی غلبہ۔ اور اس معنی میں ہر پیغمبر کو غلبہ حاصل ہوا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔