قرآن کی سورہ نمبر 2 میں زندگی کی ایک حقیقت ان الفاظ میںبیان ہوئی ہے: وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ۔ الَّذِینَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ أُولَئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّہِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ (البقرۃ: 155-57)۔ یعنی اور ہم تم کو ضرور آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف ہم لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔
دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مختلف قسم کی مصیبتیں آتی ہیں۔یہ مصیبتیں بلاسبب نہیں ہوتیں۔ ان کی بہت بڑی حکمت ہے۔ یہ مصیبتیں انسان کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بناتی ہیں۔ اور کٹ ٹو سائز ہونا انسان کی اصلاح کا سب سے بڑا راز ہے۔
کٹ ٹو سائز ہونا آدمی کو حقیقت پسند بناتا ہے۔ وہ انسان سے بڑائی کا جذبہ چھین لیتا ہے۔ وہ انسان کے اندر تواضع (modesty) کی صفت پیدا کرتا ہے۔وہ انسان کو ایگوئسٹ (egoist) بننے سے بچاتا ہے۔
کٹ ٹو سائز ہونا انسان کو انسانِ اصلی بناتا ہے۔انسان کو اس کی فطری حالت پر واپس لاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ اوصاف پیدا ہوجائیں، اس کو ایک کامیاب انسان بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ کٹ ٹو سائز ہونے سے پہلے انسان ایک مصنوعی انسان ہوتا ہے۔ کٹ ٹو سائز ہونے کے بعد انسان ایک حقیقی انسان بن جاتا ہے۔اور جو انسان حقیقی انسان بن جائے اس کے لیے فطرت کے قانون کے مطابق ،خیر کےتمام دروازے اس طرح کھل جاتے ہیں کہ کوئی دروازہ اس کے اوپر بند نہیں رہتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔