← Al-Risala October 2015Al-Risala October 2015
تفکیر، مفکر
Urdu · 5 min read
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں شروع کیا۔ اس سے پہلے لمبی مدت تک آپ کا حال یہ تھا کہ آپ متلاشی (seeker) بنے ہوئے تھے۔ نبوت ملنے سے پہلےآخری زمانے میں آ پ کا معمول یہ تھا کہ آپ مکہ کے قریب ایک پہاڑ کے غار (cave) میں چلے جاتے تھے، جس کا نام غارِ حرا تھا۔ اس غار میں آپ مراقبہ (meditation) نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ وہاں مسلسل طور پر غور و فکر (contemplation) میں مشغول رہتے تھے۔ غارِ حرا کے اسی قیام کے آخری دن آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ غارِحرا پیغمبرِ اسلام کی ایک سنت ہے۔ یہ سنت بتاتی ہے کہ سچے انسان کی زندگی کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔ قرآن میں اس معاملے کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَوَجَدَکَ ضَالًّا فَہَدَى (93:7) یعنی اللہ نے تم کو تلاشِ حق میں سرگرداں پایا تو تم کو اس نے رہنمائی دی۔ یہ واقعہ پیغمبر ِ اسلام کی اُسی طرح ایک سنت ہے جس طرح آپ کی دوسری سنتیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقی مفکروہ ہے جو حراء جیسے مرحلے سے گزر کر مفکر بنے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ تقریبا تمام وہ لوگ جو مفکر (thinker) سمجھے جاتے ہیں، وہ اس تفکیری مرحلہ (thinking process) سے گزر کر مفکرنہیں بنے، بلکہ وہ اپنے قریبی حالات کےزیر اثر مفکربنے۔ اپنی نوعیت کےاعتبار سے یہ معاملہ مذہبی مفکرین کا بھی ہے اور سیکولر مفکرین کا بھی۔
سیکولر مفکرین کی ایک نمایاں مثال کمیونسٹ مفکرکارل مارکس (وفات: 1883) کی ہے۔ اس کا فکر اپنے زمانے کے صنعتی مسائل کے تحت بنا۔یہ فکرٹکراؤ کے اصول پر مبنی تھا۔جس کو خود اس نے جدلیاتی فکر (dialectical interpretation of history)کا نام دیا ہے۔یہی معاملہ ان افراد کا بھی ہے جو مذہب کے دائرے میں مفکرسمجھے جاتے ہیں۔ یہ لوگ بھی تقریبا سب کے سب ردعمل کی پیداوار تھے۔
اسلام کی لٹریری تاریخ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ عباسی دور میں ترجموں کے ذریعے یونانی علوم کا چرچا ہوا۔ اس وقت کچھ مسلم اسکالر اس کے ردّ کے لیے کھڑے ہوگیے۔ ان کو مفکرکا درجہ دے دیا گیا۔ پھر تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے حملہ کا حادثہ پیش آیا تو بہت سے مسلم اسکالر اس کے ردعمل میں لکھنے اور بولنے لگے۔ وہ بھی مسلمانوں کے درمیا ن مفکرقرار پائے۔ اسی طرح کچھ مسلم اسکالر نے فِرقِ باطلہ کے خلاف تردیدی محاذ کھول دیا تو مسلمانوں نے ان کو بھی مفکرکا درجہ دے دیا،وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں یہی معاملہ مزید اضافے کے ساتھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانے میں کچھ مسلم رہنماء صہیونیت کے خلاف سرگرمی دکھارہے ہیں، اور کچھ لوگ استشراق کے خلاف۔ کچھ مسلمان نوآبادیات کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، اور کچھ مغربی تہذیب کے خلاف۔کچھ لوگ سیکولر حکومتوں کو زیر کرنے میں مشغول ہیں، اور کچھ لوگ مفروضہ ظالموں کے خلاف سرگرم ہیں، وغیرہ۔ یہ تمام لوگ مسلمانوں کے درمیان مفکرکا درجہ پائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ نہ تفکیر ہےاور نہ ایسا کرنےوالوں کو مفکرکا درجہ دیا جاسکتا ہے۔
قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد للہ رب العالمین۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تفکیر کو مبنی بر حمد تفکیر ہونا چاہیے۔ اسلام کی تفکیر وہ ہے جو رب العالمین کی تلاش سے شروع ہو، پھر وہ معرفت تک پہنچے۔ یہ تفکیر اپنے آغاز سے لے کر اپنے انجام تک مکمل طور پر ایک مثبت تفکیر(positive thinking) ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے مکمل طور پر پاک تفکیر ہے۔ جو لوگ اس تفکیری شرط پر پورا اتریں، وہی حقیقی معنوں میں وہ لوگ ہیں جن کو مفکرکا درجہ دیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے برعکس، دوسرے لوگ وہ ہیں جن کی تفکیر مبنی بر عداوت تفکیر ہو۔ عداوت شیطان کا کلچر ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف عداوت کے جذبات (5:91) پیداکرے۔ جولوگ شیطان کی تزئین سے متاثر ہوں،وہ مختلف عذر (excuse) کو لے کر دوسرے انسانوں کے خلاف نفرت اور عداوت کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ اسی طرز پر سوچنے لگتے ہیں، ان کی تمام سوچ مبنی بر شکایت یا مبنی بر عداوت سوچ بن جاتی ہے۔ لوگ غلط فہمی کی بنا پر ایسے لوگوں کو مفکرکا مقام دے دیتے ہیں، حالاں کہ یہ لوگ کسی بھی درجے میں مفکرکہے جانے کے مستحق نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا غارِ حراء میں جانا کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی حالات سے الگ ہوکر فطرت کی دنیا میں تدبر کرنا۔ انسان کے بجائے خدائی آیات (signs)میں غور کرنا۔ وقتی حالات سے اوپر اٹھ کر ابدی حقیقتوں میں غور کرنا۔ یہی سوچ درست سوچ ہے۔ جولوگ اس طرح تدبر اور تفکر کریں، اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ حقیقتوں کو دریافت کریں، وہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی معنوں میں مفکر کہے جانے کے مستحق ہیں۔
اس کے برعکس، وہ لوگ جن کی سوچ انسانی حالات میں پھنسی ہوئی ہو، جو انسان کے پیدا کردہ مسائل میں سوچتے ہوں، جن کا ذہن سیاسی حالات اور اخباری رپورٹوں میں الجھا ہوا ہو ۔، ایسے لوگوں کی سوچ وہ سوچ نہیں جس کو قرآن میں تدبر کہا گیا ہے۔
ایسے لوگوں کی تفکیر ہمیشہ ردعمل کی تفکیر ہوتی ہے۔ دونوں قسم کی تفکیر کی پہچان یہ ہے کہ صحیح تفکیر ہمیشہ مثبت تفکیر ہوگی، اس میں کسی کے خلاف نفرت کا شائبہ نہیں پایا جائے گا۔ اس کے برعکس، ردعمل کی تفکیر ہمیشہ منفی تفکیر (negative thinking)ہوتی ہے۔ایسے مفکرین ہمیشہ ظلم اور سازش کا انکشاف کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کے نتیجے میں لوگوں کے درمیان اشتعال پیدا ہو۔ اور پھر یہ اشتعال بڑھتے بڑھتے متشددانہ ٹکراؤ تک پہنچ جائے۔
سچا مفکراپنی مثبت سوچ کی بنا پر اس قابل ہوتا ہے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت بات کہے۔ مثلا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیغمبرانہ مشن کے تیرہویں سال مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے۔ یہ ہجرت ظلم اور تشدد کے درمیان مجبورانہ طور پر ہوئی تھی۔ مگر جب آپ 16 دن کا نہایت مشکل سفر طے کرکے مدینہ پہنچے تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کے سامنے مکہ والوں کی کوئی شکایت نہیں کی۔ اس کے برعکس، آپ نے مدینہ کے لوگوں کوسچائی کا مثبت پیغام دیا۔ان کو وہ عمل کرنے کے لیے کہا جو ان کو جنت میں پہنچائے۔