قرآن کی سورہ نمبر 17 میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ یَأْتُوا بِمِثْلِ ہَذَا الْقُرْآنِ لَا یَأْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیرًا (الاسراء: 88) کہو کہ اگر تمام انسان اور جنات جمع ہو جائیں کہ ایسا قرآن بنا لائیں تب بھی وہ اس کے جیسا نہ لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار بن جائیں ۔
کچھ لوگوں نےقرآن کے اس چیلنج کو لفظی معنی میں لے لیا۔ انھوں نے قرآن کا لفظی جواب دینے کی کوشش کی۔ مثلا ایرانی ادیب عبداللہ ابن مقفع (وفات: 142 ھ) نے قرآن کے جواب میں ایک عربی کتاب تیار کرنے کی کوشش کی لیکن خود ہی اپنی ناکامی کا عتراف کرتے ہوئے اس نےاِس منصوبے کو چھوڑدیا۔ اسی طرح یمامہ کے مسیلمہ (وفات: 12ھ)نے قرآن کے جواب میں کچھ سورتیں لکھیں۔ مثلاً سورہ الفیل کے جواب میں اس نے یہ الفاظ وضع کیے: الفیل ما الفیل لہ ذنب وثیل ومشفر طویل ۔مگر یہ سب لغو باتیں تھیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ چیلنج آئڈیالوجی کے معنی میں ہے۔ یعنی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ قرآن کے مقابلے میں کوئی متوازی آئڈیالوجی (parallel ideology) وضع کرسکے۔
تاریخ میں بار بار قرآن کی مثل آئڈیالوجی تیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر اس میں مکمل ناکامی ہوئی۔ مثلا خالق کا بدل (alternative) وضع کرنا، قرآن کے بیان کردہ تخلیقی منصوبہ (creation plan)کے مقابلے میں دوسرا منصوبہ وضع کرنا، وحی (revelation)کا بدل وضع کرنا، اخروی جنت کے بجائے دنیوی جنت تعمیر کرنا، کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ(3:185) کے بجائے ابدی حیات کو ممکن بنانے کی کوشش کرنا، أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) کے بجائےغیر خدا میں اطمینان قلب حاصل کرنے کی کوشش کرنا،وغیرہ۔ انسان نے باربار ان پہلوؤں سے قرآن کا جواب وضع کرنے کی کوشش کی لیکن اس معاملے میں اس کو مکمل ناکامی ہوئی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔