فواد سیزگین (پیدائش: 1924) ترکی کے مشہور اسکالر ہیں۔ وہ ترکی زبان کے علاوہ ، عربی، انگریزی اور جرمن زبان پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ اُن کےاستاد ہیلمٹ رٹر(Helmut Ritter) نے اُن سے کہا تھاکہ اگر تم واقعی اسکالر بننا چاہتے ہو تو روزانہ17 گھنٹے مطالعہ کرو۔ چناں چہ فواد سیزگین اپنا بیش تر وقت مطالعہ کتب میں گزارتے ہیں، حتی کہ اپنی فیملی سے بات کرنے کے لیے اُن کے پاس روزانہ بمشکل دس منٹ ہوتے ہیں-فواد سیزگین کے مطالعے کا موضوع مسلم تہذیب کی تاریخ ہے۔ اِس موضوع پر انھوں نے بہت سے تحقیقی کام کیے ہیں۔ اِس کے علاوہ ترکی اور جرمنی میں انھوں نے اِس موضوع پر ادارے بھی قائم کیے ہیں، فواد سیزگین نے اپنی تحقیق کے ذریعے بہت سی نئی باتیں دریافت کی ہیں۔ مثلاً انھوں نے لکھا ہے کہ کولمبس (وفات: 1504) سے بہت پہلے مسلمانوں نے امریکا کو دریافت کرلیا تھا، وغیرہ-
مسلم تہذیب کا موضوع کسی آدمی کو ایک یونی ورسٹی میں پروفیسر بنا سکتا ہے، لیکن اللہ رب العالمین کے تخلیقی پلان کے مطابق، کسی تہذیب کے علمی مطالعے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی ابدی جنت کا مستحق بنائے اور لوگوں کو اِس حقیقت سے باخبر کرے-
مثلاً اِس اعتبار سے، اہمیت کی بات یہ نہیں ہے کہ کس نے امریکی براعظم کو پہلے دریافت کیا اور کون وہاں بعد کو پہنچا۔ رب العالمین کے تخلیقی پلان کے مطابق، اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ اہلِ امریکا کو کس نے خدا کا پیغام پہنچایا اور کون اِس فرض کی ادائیگی میں ناکام رہا-
اِس معاملے میں صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ چیزوں کو رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے اعتبار سے دیکھا جائے، رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے مطابق، زندگی کی منصوبہ بندی کی جائے، رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے مطابق، چیزوں کی اہمیت متعین کی جائے اور رب العالمین کے نقشہ تخلیق کے مطابق، اِس دنیا میں اصل اہمیت دعوت الی اللہ کی ہے، نہ کہ کسی موضوع کا علمی مطالعہ وتحقیق۔ تہذیب کا موضوع صرف ایک دنیوی موضوع ہے، جب کہ خالق کے نزدیک اصل اہمیت کا موضوع وہ ہے جس کا تعلق آخرت کی ابدی زندگی سے ہو-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔