ماہ نامہ الرسالہ کے مضامین میں اکثر روحانیت (spirituality) پر زور دیا جاتا ہے- ایک صاحب جو ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، اِن مضامین کو پڑھنے کے بعد ای میل کے ذریعے اُن کا ایک سوال موصول ہوا ہے- انھوں نے یہ سوال کیا ہے کہ — زندگی کے مادی تقاضے بھی ہیں اور روحانی تقاضے بھی، پھر دونوں تقاضوں کے درمیان توازن (balance) کس طرح قائم کیا جائے:
How can one maintain a balance between spirituality and materialism.
جواب یہ ہے کہ توازن کا اصول غیر فطری اصول ہے- اکثر لوگ ’’توازن‘‘ کے تصور میںالجھے رہتے ہیں،چناں چہ وہ کبھی اپنی زندگی کے مختلف تقاضوں کے درمیان توازن قائم نہیں کرپاتے- نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹنشن (tension)کا شکار ہوجاتے ہیں- توازن کا اصول غیر فطری ہونے کی وجہ سے ایک ناقابلِ حصول چیز ہے، اور جو چیز ناقابلِ حصول ہو، اس کے بارے میں صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ اس کو علیٰ حالہ قبول کرلیا جائے-
فطری قانون کے مطابق، زندگی کا نظام ترجیح (priority) کے اصول پر قائم ہے، یعنی زندگی کے ایک تقاضے کو اولین (primary) اہمیت دینا اور دوسرے تقاضے کو ثانوی (secondary) درجے پر رکھنا- اِس معاملے میں یہی واحد قابلِ عمل فارمولا ہے- اِس کے سوا کوئی دوسرا فارمولا سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں-
روحانیت اور مادیت کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ترجیح کا اصول اختیار کیا جائے ، یعنی روحانیت کو اولین حیثیت دی جائے اور مادیت کو ثانوی حیثیت- اِس معاملے میں یہی حقیقت پسندی ہے- جو آدمی اِس حقیقت کو نہ مانے، اُس کو اِس کی بھاری قیمت دینی پڑے گی، وہ یہ کہ ایسا شخص ہمیشہ ٹنشن میں جئے گا، وہ ہمیشہ ذہنی سکون (peace of mind) سے محروم رہے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔