Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2014
Al-Risala October 2014

ایک اہم کتاب

Urdu · 2 min read

مستشرقین کے جواب میں موجودہ زمانے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر ان کا اصل جواب یہ ہے کہ علوم اسلام پر ایسی اعلی کتابیں تیار کی جائیں جو اپنی تحقیق اور معلومات کے اعتبار سے مستشرقین کی باتوں کا مثبت جواب بن جائیں۔ اس سلسلے میں یہاں ہم عظیم ترکی عالم فواد سیزگین (Fuad Sezgin) کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جنھوںنے اس میدان میں انتہائی قابل قدر کام انجام دیا ہے۔ موصوف نے 25 سالہ مطالعے کے بعد حسب ذیل کتاب جرمن زبان میں تیار کی ہے:

Geshichte des Arabischen, Schrifttums, Leiden, 1967

اِس کتاب کا معیاری عربی ترجمہ دکتور محمود فہمی حجازی اور دکتور فہمی ابوالفضل نے کیا ہے۔ اس کا نام تاریخ التراث العربی ہے۔ وہ تین جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کو الہیئة المصریة العامہ للکتاب، قاہرہ نے 1978 میںشائع کیا ہے۔ پہلی جلد تین حصوں پر مشتمل ہے اور اسی طرح دوسری جلدبھی:

المجلد الاول: (1) علوم القرآن (2) علم الحدیث

(3) التدوین التاریخی الى غایة سنة 430 ہجریة تقریباً

المجلد الثانی: (1) الفقہ (2) العقائد (3) التصوف الی غایة سنة 430 ہجریة تقریباً

کتاب کی تیسری جلد تاریخ شعر عربی سے متعلق ہے-

ہر فصل کے شروع میں نہایت قیمتی مقدمہ ہے جس میں خالص علمی اور تاریخی انداز میں متعلق فصل کا تعارف ہے۔ اس کے بعد صحابہ سے لے کر پانچویں صدی ہجری کے ابتدائی نصف تک اُن اسلامی شخصیت کے حالات اور کارنامہ کا محققانہ تذکرہ ہے جو ان موضوعات پر مستند حوالہ کی حیثیت رکھتی ہیں-

یہ کتاب بلا شبہہ اپنی قسم کی واحد کتاب ہے اور اس قابل ہے کہ تمام اسلامی اداروں کے کتب خانوں میں کتب حوالہ کی الماری میں موجود ہو۔ اس موضوع پر ماضی میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً ابن الندیم کی الفہرست (377) طاش کبری زادہ (968ھ) کی مفتاح السعادة۔ حاجی خلیفہ (1067ھ) کی کشف الظنون۔ اسماعیل البغدادی ( 1339ھ) کی ہدیة العارفین، وغیرہ-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content