قرآن کی سورہ المومن میں ارشاد ہوا ہے: وَاَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَـنَاجِرِ کٰظِمِیْنَ ڛ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّــطَاعُ یَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ(40:18-19) یعنی اُن کو قریب آنے والی مصیبت کے دن سے ڈراؤ جب کہ دل حلق تک آپہنچیں گے، وہ غم سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔ اللہ نگاہوں کی خیانت کو جانتا ہے اور وہ اُن باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو سینے چھپائے ہوئے ہیں-
اِس آیت میں نگاہ کی خیانت اور دل کا اخفا، دونوں انسان کی ایک کمزوری کو بتاتے ہیں۔ اِس کی وضاحت ضحاک بن مزاحم (وفات: 723 ء) نے اپنے ایک قول میںاِس طرح کی ہے: ہی قول الإنسان: ما رأیتُ وقد رأى، أو رأیت وما رأى (تفسیر القرطبی: 15/303) یعنی اِس سے مراد انسان کا یہ قول ہے جب کہ وہ کہے کہ میں نے نہیں دیکھا، حالانکہ اس نے دیکھا ہو۔ وہ کہے کہ میں نے دیکھا، حالانکہ اس نے نہ دیکھا ہو-اِس سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو ذہنی بددیانتی (intellectual dishonesty) کہاجاتا ہے۔ یہ کمزوری عورتوں اور مردوں کے درمیان بہت عام ہے۔ لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ جو بات اُن کے تصور کے خلاف جاتی ہو، اس کو شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اِس طرح بیان کردیتے ہیں جیسے کہ وہ ماننے کے قابل ہی نہیں-
اِس کے برعکس، صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر ذہنی دیانت داری (intellectual honesty) کی صفت موجود ہو۔ اس کا ضمیر (conscience) اتنا زیادہ زندہ ہو کہ وہ اِس بات کا تحمل نہ کرسکے کہ وہ ایک ثابت شدہ بات کا انکار کرے اور ایک غیر ثابت شدہ بات کو اپنائے ہوئے ہو۔ ذہنی بددیانتی بلاشبہہ کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اور ذہنی دیانت داری بلا شبہہ کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت۔ پہلا انسان ایک مردہ انسان ہے اور دوسرا انسان ایک زندہ انسان-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔