علما کی ہمیشہ یہ روش رہی ہے کہ وہ دین میں کسی ادنی انحراف کو برداشت نہیں کرتے۔ جب بھی وہ دیکھتے ہیں کہ کچھ مسلمان دین کے کسی معاملے میںانحراف کی روش اختیار کررہے ہیںتو وہ اس کے خلاف انکارِ منکر کے اصول پر زبان وقلم کے ذریعے سخت کارروائی کرتے ہیں۔ مگر اُن کا یہ انکارِ منکر دین کی اُن تعلیمات کے معاملے میں ہوتا ہے جن کا تعلق عقیدہ اور عبادت جیسی چیزوں سے ہے۔ اِس کے علاوہ، دین کا ایک اور پہلو ہے، مگر اِس دوسرے پہلو کے بارے میں علما نے ہمیشہ بالکل مختلف روش اختیار کی-
دین کے اِس دوسرے پہلو کی ایک واضح مثال وہ ہے جس کا تعلق حکومت سے ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ قرآن میں حکومت کے معاملےمیں شوری (42:38) کا اصول بتایا گیا تھا، یعنی حکومت کے معاملے کو مسلمانوں کے اجتماعی مشورے سے طے کرنا۔ یہ حکم واضح طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کے خلاف ہے-مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت معاویہ کے زمانہ (20-60 ہجری) میں حکومت کے ادارے کو خاندانی ادارے کی حیثیت دے دی گئی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مسلم معاشرے میں صحابہ اور تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے، مگر اِن تمام لوگوں نے تقریباً بلا اختلاف اسلام میں اِس بظاہر انحراف کو قبول کرلیا۔ اِس کے بعد خاندانی حکومت کا یہی طریقہ عملاً رائج ہو گیا۔ بنو امیہ کے دور اور بنو عباس کے دور سے لے کر مغل سلطنت اور ترکی کی عثمانی خلافت تک بلا انقطاع ہر جگہ یہی طریقہ جاری رہا-
بات صرف اتنی ہی نہیں، بلکہ بعد کے زمانے میں اِس میں مزید اضافہ ہوا۔ تمام علما نے اِس پر اجماع کرلیا کہ قائم شدہ مسلم حکومت کو تسلیم کیاجائے گا، اس کے خلاف خروج حرام ہوگا۔ (اس معاملے کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو: امام نووی کی شرح صحیح مسلم، جلد 12، صفحہ 229)
یہ کوئی سادہ یا اتفاقی بات نہیں۔ یہ دراصل اسلام کے ایک اہم اصول پر مبنی ہے، وہ یہ کہ اسلام کی تعلیمات کے دو مختلف حصے ہیں۔ ایک حصے کو اسلام کا حقیقی حصہ (real part)کہاجاسکتا ہے اور دوسرے حصے کو اسلام کا اضافی حصہ(relative part) کہاجاسکتا ہے۔ عقیدہ اور عبادت جیسی تعلیمات کا تعلق اسلام کے حقیقی حصے سے ہے اور حکومت یا حکومتی نظام کا تعلق اسلام کے اضافی حصے سے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔