بیسویں صدی کے آغاز میں اُس فلکیاتی واقعہ کی دریافت ہوئی جس کو عام طورپر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ اِس واقعے کو یہ نام برٹش سائنس داں فریڈ ہائل (Fred Hoyle) نے دیا تھا جس کی وفات 2001 میں ہوئی۔ بگ بینگ کے بعد خلا میں جو واقعات پیش آئے، اُن میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو سولرسسٹم (solar system) کہا جاتا ہے۔ سولر سسٹم کو ایک امریکی سائنس داں الان باس (Alan Boss) نے لٹل بینگ (Little Bang)کا نام دیا۔ اس کی پیدائش 1951 میں ہوئی-
تسمیہ (nomenclature) کے اِس اصول کو لے کر میں نے سوچا تو میری سمجھ میں آیا کہ پوری تاریخ میں چھ قسم کے بینگ جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔ وہ چھ بینگ یہ ہیں:
1. Big Bang (بگ بینگ)
2. Little Bang (شمسی نظام)
3. Water Bang (واٹر بینگ)
4. Plant Bang (پلانٹ بینگ)
5. Animal Bang (اینمل بینگ)
6. Human Bang (ہیومن بینگ)
سائنس دانوں نے کائنات میں اِس طرح کے چھ ادوار کی نشان دہی نہیں کی ہے، لیکن سائنس نے کائنات کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں، اُن کو لے کر جب غور کیا جائے تو بظاہر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ کائنات میں تخلیق کا جو عمل ہوا ہے، اُس کے غالباً یہی چھ ادوار ہیں۔ اب تک کی سائنسی معلومات اِس تقسیمِ ادوار کی بظاہر تصدیق کرتی ہیں-اِس اعتبار سے چھ ادوار کی تقسیم بالواسطہ طور پر ایک سائنسی تقسیم ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.