ایک شخص جب شعوری طورپر ایمان کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد یہ بھی اس کے ایمان کا ایک لازمی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ دین کے کام کے لیے اپنے آپ کو وقف کرے، خاص طورپر دعوت الی اللہ کے کام کے لیے۔ اِسی کا نام دینی مشن ہے۔ ایمان اگر کسی انسان کی داخلی صفت ہے تو دینی کام اس کی ایک خارجی صفت-دینی مشن کے معاملے میں اصل معیار یہ نہیں ہے کہ آپ نے مقدار (quantity) کے اعتبار سے کتنا کام کیا، بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ آپ نے اپنے کام کے دوران خود اپنے لیے کیا پایا۔ دینی مشن کے معاملے میں خارجی مقدار کی حیثیت اضافی ہے اور داخلی یافت (internal realization) کی حیثیت حقیقی-
دین کے احکام خواہ وہ انفرادی ہوں یا بظاہر ان کی نوعیت اجتماعی ہو، دونوں حالتوں میں کسی حکم کا پہلا نشانہ ہمیشہ فرد ہوتا ہے۔ ہر دینی حکم کے معاملے میں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ ایک فرد نے اس کو کتنا اپنایا، اس کی تعمیل کے دوران ایک فرد کو کتنا ربانی رزق ملا۔ اپنی شخصیت کی تعمیر کے اعتبار سے، اس کو کیا ملا اور کیا نہیں ملا-
کوئی مومن خواہ وہ اکیلا ہو یا وہ اجتماعی زندگی کے اندرہو، ہر حال میں اس کو سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرناچاہیے۔ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانچ کر دیکھے کہ کسی دینی عمل یا کسی دینی سرگرمی کے دوران اس کو اپنی ذات کے لیے کیا ملا۔ اپنی ذات کی نسبت سے اس نے کیا پایا اور کیا کھویا-
ہر آدمی کے لیے اِس دنیا میں جانچ کا ایک ہی معیار ہے اور وہ ہے اپنی ذات۔ ہر آدمی کا سب سے بڑا کنسرن یہ ہونا چاہئے کہ اس کے اپنے اندر ذہنی یا روحانی ارتقا ہو۔ وہ اپنے آپ کو شیطان سے دور لے جائے۔ وہ اپنے آپ کو فرشتوں کا ہم نشیں بنائے۔ وہ اپنے آپ کو اِس طرح تیار کرے کہ آخرت میں وہ جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔ آخرت میں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ جائے اور اللہ کی رحمتوں میں حصے دار بنے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.