الرسالہ مشن سے وابستہ ایک خاتون کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ روڈ ایکسیڈینٹ میں ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ اُن سے گفتگو کرتےہوئے میں نے کہا کہ اِس معاملے کو آپ قرآن کی دو آیتوں کی روشنی میں دیکھئے(2:155)، (3:185)۔ اِس کے مطابق، موت اللہ کا ایک فیصلہ ہے۔ زندگی بھی اللہ کے فیصلے سے وجود میں آتی ہے اور موت بھی اللہ کے فیصلے سے وقوع میں آتی ہے-
حقیقت یہ ہے کہ موت کوئی ’’حادثہ‘‘ نہیں، موت ایک امتحان (test) ہے۔ موت کو اگر حادثہ (accident) سمجھا جائے تو اُس سے غم کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اِس کے برعکس، موت کو اگر امتحان سمجھا جائے تو آدمی کے اندر ایک نیا عزم جاگ اٹھے گا-وہ سمجھے گا کہ اب تک میرا امتحان زندگی کے ذریعے ہورہا تھا، اب میرا امتحان موت کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ میری کامیابی یہ ہے کہ میں اِس معاملے کو امتحان کی نظر سے دیکھوں اور اس میں پورا اترنے کی کوشش کروں-
کسی کی موت خواہ وہ حادثے کے طور پر ہو یا بیماری کے طورپر، وہ کبھی بے وقت نہیں آتی۔ ہرانسان جو اِس دنیا میں پیداہوتا ہے، وہ امتحان کے لیے پیداہوتا ہے۔ ہر ایک کے لیے امتحان کی ایک مدت مقرر ہے۔ یہ مقرر مدت پوری ہوتے ہی موت کا فرشتہ آتا ہے اور اس کی روح قبض کرکے اس کو آخرت کی دنیا میں پہنچا دیتا ہے-
آدمی کو چاہیے کہ وہ موت کے معاملے میں حقیقت پسند بنے۔ وہ موت کو ایک اٹل حقیقت کے طورپر تسلیم کرے۔ وہ موت کو اپنے لیے سبق کا ذریعہ بنائے، نہ کہ غم اور افسوس کا ذریعہ-
موت کو حدیث میں ’’ہادم اللذات‘‘ (مسند احمد، رقم الحدیث: 7925)کہاگیا ہے، یعنی لذتوں کو ڈھادینے والا واقعہ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کو موت کا حقیقی ادراک ہوجائے، وہ آخری حد تک سنجیدہ ہوجائے گا۔ وہ آج (today) کے بجائے کل (tomorrow) کو اپنا نشانہ (goal) بنا لے گا۔ اس کی زندگی مکمل طورپر آخرت رخی زندگی بن جائے گی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔