موجودہ زمانے کے تمام مسلم رہنما متفقہ طورپر اعلان کررہے ہیں کہ تمام دنیا کے مسلمان غیرمسلم قوموںکی طرف سے ظلم کا شکار ہورہے ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک غلط رہنمائی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ جو ناموافق حالات پیش آرہے ہیں، وہ قرآن کے مطابق، تنبیہہ خداوندی کی حیثیت رکھتے ہیں، جیساکہ اِس سے پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا۔ یہ واقعات چوں کہ بظاہر کچھ انسانوں کی طرف سے پیش آتے ہیں، اِس لیے ہمارے رہنماؤں نے اِن واقعات کو مفروضہ ظالموں کے ساتھ منسوب کرکے اُن کے خلاف احتجاج اور جوابی تشدد شروع کردیا۔ اگر وہ اِن واقعات کو خدا کی تنبیہات (warnings) سمجھتے تو وہ مسلمانوں کو داخلی اصلاح کی طرف متوجہ کرتے۔ اس کے بعد ایسا ہوتا کہ مسلمان اصلاحِ خویش میں مشغول ہوجاتے، نہ کہ شکایت غیر میں-
موجودہ صورت ِ حال میں قرآن کی یہ آیت ایک خدائی رہنما کی حیثیت رکھتی ہے: فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (6:43) یعنی جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو وہ کیوں نہ گڑگڑائے، بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کرکے دکھاتاہے-
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب قوم کے اندر بگاڑ آیا تو اللہ کی طرف سے تنبیہات آئیں۔ اُس وقت چاہیے تھا کہ قوم کے اندر محاسبہ کا جذبہ پیدا ہوتا اور وہ اصلاحِ خویش کی طرف متوجہ ہوجاتے، لیکن عملاً یہ ہوا کہ انھوں نے خود ساختہ توجیہات کے ذریعے اس کو مفروضہ ظالموں کا ظلم قرار دے دیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی غلط سوچ میں اور زیادہ پختہ ہوگئے۔ تنبیہ خداوندی کو ظلمِ انسانی قرار دینا ہمیشہ شیطان کی تزئین کے تحت ہوتاہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہی نامطلوب تزئین ہے-تنبیہہ ِ خداوندی کو ظلمِ انسانی سمجھنا، بلاشبہہ ایک تباہ کن غلطی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔