کہاجاتا ہے کہ 1847 میں ایک آدمی نے ایک بچے کے پاس ایک عجیب قسم کا پتھر دیکھا۔ یہ بچہ ہوپ ٹاؤن (Hopetown) جو دریائے اورنج پرواقع ہے،کے ایک کھیت میں کھیل رہا تھا۔ یہ بظاہر ایک گول پتھر تھا۔ اُس شخص نے یہ پتھر بچے کے ہاتھ سے لے کر جب ایک جوہر شناس کو دکھایا تو معلوم ہوا کہ وہ ہیرا (diamond)ہے۔ یہ پتھر 2.122قیراط وزنی تھا۔ اِس ہیرے کو پیرس کی ایک نمائش میں بھی دکھایا گیا(روزنامہ منصف، حیدرآباد، 11 جون 2013 )-
جس طرح پتھر کے معاملے میں جوہر شناسی مطلوب ہے، اسی طرح انسان کے معاملے میں بھی جوہر شناسی مطلوب ہے۔ بے شمار انسان پیدا ہو کر دنیا میں آتے ہیں، لیکن سب یکساں قابلیت کے نہیں ہوتے۔ اُن میں بعض افراد ایسے ہوتے ہیںجو امکانی طورپر خصوصی صلاحیت لے کر پیدا ہوئے ہوں۔ لیکن یہ صلاحیت ایک چھپی ہوئی صلاحیت ہوتی ہے، وہ آواز دے کر اپنے آپ کو نہیں بتاتی۔ ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی جوہر شناس ان کی چھپی ہوئی صلاحیت کو پہچانے اور اس کو اظہارکا موقع دے-
کسی آدمی کے جوہر کو پہچاننے کی دو صورتیں ہیں — ایک، یہ کہ آدمی اتنا زیادہ خود شناس ہو کہ وہ خود اپنے آپ کو پہچان لے، یا اس کو کوئی ایسا قدر داں مل جائے جو اس کے جوہر کو پہچانے اور اس کے لیے وہ بوسٹر (booster) بن جائے۔ یہ دونوں نہایت مشکل کام ہیں۔ خود شناس بننے کے لیے کامل درجے کی حقیقت پسندی درکار ہے اور جوہر شناس بننے کے لیے کامل درجے کی خیرخواہی-
تجربہ بتاتاہے کہ یہ دونوں صفتیں لوگوں کے اندر بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اِس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اعلی صلاحیت کے افراد پیدا ہوتے ہیں، لیکن وہ دنیا میں اپنا استعمال نہیں پاتے، کبھی اِس لیے کہ وہ خود اپنے آپ کو دریافت نہیں کرپاتے اور کبھی اِس لیے کہ دنیا میں اُن کو کوئی سچا خیر خواہ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس میں اکثر لوگ ناکام ثابت ہوئے ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔