امریکا کے ایک جرنل (The Journal of Positive Psychology)کے شمارہ 19 دسمبر 2012 میں ایک ریسرچ کے نتائج چھپے ہیں۔ یہ ریسرچ امریکا کے د و اسکالرس (academics) نے کی ہے۔ اُن کے نام یہ ہیں:
Yuna L Ferguson, Kennon M Sheldon
اِس ریسرچ میں خوش رہنے کا راز بتایا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے تجربات کے ذریعے یہ پایا ہے کہ جو لوگ پرمسرت میوزک (happy music) سنتے ہیں، وہ اپنی زندگی میں خوش رہتے ہیں، اِن میں وہ لوگ زیادہ خوش پائے گئے جنھوں نے باقاعدہ طورپر خوش رہنے کی کوشش کی:
Those who actively tried to feel happier reported the highest level of positive mood afterwards.
پرمسرت میوزک سن کر خوش رہنے کا یہ طریقہ فطرت کے مطابق نہیں، یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہی چیز ہے جس کو غم غلط کرنے کا طریقہ کہاجاتا ہے۔ فطرت کے تخلیقی نقشے کے مطابق، صحیح طریقہ یہ ہے کہ زندگی کے مسائل کو چیلنج (challenge) کے طورپر لیا جائے۔
انسان کی زندگی مسائل سے بھری ہوئی ہے۔ یہ مسائل اِس لیے نہیں آتے کہ کسی مصنوعی تدبیر سے اُن کو بھلا دیا جائے، بلکہ یہ مسائل اِس لیے آتے ہیں کہ ان کو چیلنج سمجھ کر ان کا سامنا کیاجائے۔ اِس طرح آدمی کے ذہن میں ایک قسم کا فکری سنگھرش (intellectual struggle) وجود میں آتا ہے۔ اِس کے ذریعے آدمی کی تخلیقیت (creativity)میں اضافہ ہوتاہے، اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہوتا ہے، اس کے ذریعے آدمی کا جمود (stagnation) ٹوٹتاہے، اس کے اندر حرکت اور فعالیت پیداہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پرمسرت زندگی کا راز ذہنی ارتقا ءمیں ہے، نہ کہ پرمسرت میوزک سننے میں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.