Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2014
Al-Risala October 2014

ڈسکوری، ری ڈسکوری

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ آل عمران کی ایک آیت میں بتایا گیا ہےکہ — جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں نے تم کو کتاب اور حکمت دی، پھر تمھارے پاس پیغمبر آئے جو سچا ثابت کرے اُن پیشین گوئیوں کو جو تمھارے پاس ہیں تو تم اُس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی مدد کر وگے۔ اللہ نے کہا: کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا عہد قبول کیا۔ انھوں نے کہا: ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا: اب گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔ (3:81)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کی اِس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حق پر وہ ایمان مطلوب ہے جو معرفت کے درجے میں ہو۔ پیغمبر کے معاصرین میں سے جو لوگ پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں، وہ معرفت کے درجے میں سچائی کو دریافت کرکے اس کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن پیغمبر کی امت اپنے بعد کے زمانے میں صرف پیدائشی ایمان پر قائم ہوجاتی ہے۔ یہ پیدائشی ایمان اللہ کو مطلوب نہیں، اِس لیے بعد کے زمانے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ امت معرفت والے ایمان کا ثبوت دے-

مثلاً قدیم زمانے میں امتِ موسی کے لیے ضروری تھا کہ وہ حضرت مسیح کی سطح پر دوبارہ معرفت والے ایمان کا ثبوت دیں۔ اِسی طرح امتِ مسیح کے لیے ضروری تھا کہ وہ حضرت محمد کی سطح پر ایمان کی شعوری دریافت کریں اور دوبارہ اپنے آپ کو معرفت والے ایمان پر قائم کریں-

اب ختمِ نبوت کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہیں، لیکن مذکورہ قانون بدستور باقی ہے۔ بعد کے زمانے میں امتِ مسلمہ کی نجات کے لیے پیدائشی ایمان کافی نہیں ہوسکتا۔ امت کے افراد کو بعد کے زمانے میں دوبارہ معرفت والے ایمان کا ثبوت دینا ہے۔ اُن کو یہ کرنا ہے کہ وہ غور وفکر کے ذریعے دینِ خداوندی کو دوبارہ زندہ شعور کی سطح پر دریافت کریں۔ اِس سے کم کوئی چیز اللہ کے یہاں قابلِ قبول نہیں ہوسکتی-بعد کے زمانے میں غیر اہلِ ایمان کو ڈسکوری کی سطح پر خدا کے دین کو پانا ہے، اور اہلِ ایمان کوری ڈسکوری کی سطح پر-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content