ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم قال لما صوّر اللہ آدم فی الجنة ترکہ ماشاء اللہ أن یترکہ فجعل ابلیس یطیف بہ ینظر ما ہو فلما رآہ أجوف عرف أنہ خلق خلقا لا یتمالک (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 6815) یعنی جب اللہ نے جنت میں انسان کی ساخت بنائی تو اللہ نے اس کو ایک مدت کے لیے وہاں باقی رکھا۔ پھر ابلیس آیا۔ وہ آدم کا مطالعہ کرنے لگا کہ وہ کیا ہے۔ پھر اس نے دیکھا کہ وہ اجوف (hollow) ہے۔ اس نے جان لیا کہ آدم کی تخلیق اِس طرح ہوئی ہے کہ اس کے اندر تمالک کی صفت نہیں۔
اِس حدیث کے بارے میں التور بشتی نے لکھا ہے کہ’’ہذا الحدیث مشکل جدا‘‘(یہ حدیث بے حد مشکل ہے) لیکن محدث ابن جوزی نے ایک بات لکھی ہے جو گویا اِس حدیث کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتی ہے: الأجوف ضعیف الصبر ( کشف المشکل من حدیث الصحیحین لابن الجوزی 1716 / 2138)۔ مذکورہ حدیث میں تمالک کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تمالک کا مطلب ہے — سیلف کنٹرول، یعنی اپنے آپ پر قابو رکھنا۔ ابلیس کی یہ تشخیص نہایت درست تھی اور اِس کا پہلا مظاہرہ اِس طرح ہوا کہ جنت میں آدم اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے۔ انھوں نے واضح ہدایت کے باوجود جنت کے ممنوعہ درخت (forbidden tree) کا پھل کھالیا۔ تمالک میں اِس ناکامی کا نتیجہ یہ ہوا کہ آدم کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بھیج دیاگیا-
ابلیس نے انسان کی اِس کمزوری کو پہلے ہی دن دریافت کرلیا تھا۔ اُس نے یہ جان لیا تھا کہ انسان کو صراطِ مستقیم سے ہٹانے کا سب سے زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ اس کو ایسی خواہشوں میں مبتلا کیاجائے جہاں وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے منحرف ہوجائے-
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو ابلیس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اِس مقابلے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ابلیس کے وسوسے کو پہچانے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں تذکّر (7:201) کہاگیا ہے ۔ اس معاملے میں شیطان کی زد سے بچنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر تذکر کی صفت پیدا کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔