حج کی روایتوں میں سے ایک روایت یہ ہے کہ اہلِ مدینہ نے عبد اللہ بن عباس سے ایک عورت کے بارے میں پوچھا کہ اس نے (زمانۂ حج میں) طواف کیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی- انھوںنے کہا کہ وہ مدینہ واپس چلی جائے- اہلِ مدینہ نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے کہ ہم آپ کے قول کو لیں اور زید بن ثابت الانصاری کے قول کو چھوڑ دیں: لانأخذ بقولک وندع قول زید (صحیح البخاری، کتاب الحج، رقم الحدیث: 1758-1759 )
عبد اللہ بن عباس اور زید بن ثابت دونوں صحابی تھے، لیکن مذکورہ مسئلے میں دونوں کے درمیان اختلاف تھا- عبد اللہ بن عباس کا کہنا یہ تھا کہ مذکورہ کیس میں عورت کے لیے رخصت ہے کہ وہ طواف وداع کیے بغیر اپنے گھر واپس چلی جائے- لیکن زید بن ثابت انصاری کا مسلک یہ تھا کہ ایسی عورت کو حیض کے بعد سات دن قیام کرنا چاہیے اور پھر طواف وداع کرکے اپنے گھر واپس جانا چاہیے-
رائے کے اس اختلاف کے باوجود دنوں صحابہ کے درمیان یا اُن کے پیروؤں کے درمیان وہ غیر مطلوب اختلاف پیدا نہیں ہوا جو موجودہ زمانے میں اِس طرح کی صورتِ حال میں پایا جاتا ہے- اِس کا سبب مسلک میں اختلاف کو برداشت کرنا نہیں تھا، بلکہ اِس کا سبب مسلک میں توسع (diversity) تھا، یعنی یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک ہے- مذکورہ عورت اگر حیض کے بعد طوافِ وداع کے بغیر واپس چلی جائے تو اس کو اِس کی رخصت ہے اور اگر وہ ٹھہر جائے اور ایک ہفتے کے بعد طوافِ وداع کرکے واپس جائے، تب بھی ٹھیک-فقہی مسلک میں اختلاف ہمیشہ جزئی نوعیت کا ہوتاہے، اور جزئی نوعیت کے اختلاف میں ہمیشہ توسع مطلوب ہوتاہے، نہ کہ توحد، یعنی ایک مسلک درست ہے اور دوسرا مسلک غلط- یہی وہ حقیقت ہے جو کہ حدیث میں اِن الفاظ میں بتائی گئی ہے: فبأیّہم اقتدیتم، اہتدیتم (مشکاة المصابیح، رقم الحدیث: 6018)-فقہی مسائل میں اختلاف مسلک کو توسع پر محمول کرنا چاہئے، نہ یہ کہ ایک مسلک صحیح ہے، اور دوسرا مسلک غلط۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔