ہیرا (diamond) سب سے زیادہ قیمتی دھات ہے- ہیرا خالص کاربن ہوتا ہے- اس میں وہی بنیادی اجزا ہوتے ہیں جو کوئلے میں پائے جاتے ہیں- قدرتی ہیرا تیار ہونے میں کئی سو سال لگتے ہیں- ہیرا جب نکالا جاتا ہے تو وہ ایک کھردری معدنیات کے مشابہ ہوتا ہے- تراش خراش کے بعد وہ قیمتی ہیرے کی شکل میں بن کر تیار ہوتاہے- نگینہ بنانے میں عام طور پر 35 سے 60 فی صد حصہ صاف کرنے میں کاٹ دیا جاتا ہے- (روزنامہ منصف، حیدرآباد، دکن، 11 جون 2013)
جو ہیرے کامعاملہ ہے، وہی فطرت کے مطابق، انسان کا معاملہ بھی ہے- ہیرے کی طرح انسان بھی ایک پوٹنشل کے روپ میں پیدا ہوتا ہے- اِس پوٹنشل کو ایکچول بنانا انسان کا اپنا کام ہے۔ جو شخص اِس راز کو جانے اور اپنے امکان کو واقعہ بنانے کی کوشش کرے، وہی ’ہیرا انسان‘ ہے- اور جو آدمی ایسا نہ کرسکے، اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ہیرے کے ٹکڑے کو کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے-
ہر انسان کے اندر ایک امکانی شخصیت ہوتی ہے- یہ شخصیت کسی انسان کو فطرت کی طرف سے عطا کی جاتی ہے- اِس شخصیت کا ارتقا اپنے آپ نہیں ہوسکتا- یہ کام آدمی کو خود کرنا ہے- یہی آدمی کا اصل امتحان ہے- بعض انسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیلف میڈ مین (self-made man) تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان کا کیس یہی ہے-
ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اُس شخصیت (personality) کو دریافت کرے جو فطرت کی طرف سے اُس کو ملی ہے- یہ شخصیت گویا ایک ناتراشیدہ ہیرا ہے- ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اِس ناتراشیدہ انسان کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبے کے ذریعے وہ اِس ناتراشیدہ ہیرے کو تراشیدہ ہیرا بنائے- جو شخص اِس عمل میں ناکام رہے، اس کے لیے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں کوئی جگہ-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔