سیکولر فکر رکھنے والے متعدد اہلِ علم نے یہ بات کہی ہے کہ خدا کا کوئی حقیقی وجود نہیں، وہ انسانی ذہن کی تخلیق ہے — خدا، انسان کی ایک عظیم ایجاد ہے:
God is a great invention by man
یہ صرف ایک ورڈ پلے (word play) ہے- زیادہ درست بات یہ ہے کہ اِس طرح کہاجائے کہ — انسان، خدا کی ایک عظیم تخلیق ہے:
Man is a great creation by God
خدا کے وجود کے بارے میں میں علمی غوروفکر سب سے پہلے فلسفہ میں شروع ہوا- فلسفہ اِس معاملے میں کسی حتمی انجام تک نہ پہنچ سکا- گلیلیو اور نیوٹن کے بعد غوروفکر کا سائنسی انداز شروع ہوا- سائنس کا موضوع اگرچہ خالق نہیں تھا، بلکہ اس کے اپنے الفاظ میں، نیچر(nature) تھا- مگر نیچر کیا ہے- نیچر تخلیق کا دوسرا نام ہے- گویا سائنس کا موضوع ہے — خالق کے حوالے کے بغیر مخلوق کا مطالعہ کرنا- سائنسی مطالعے میں پہلے، نیوٹن کے زمانے میں، یہ مان لیا گیا تھا کہ دنیا ایک میکانکل ڈزائن (mechanical design) ہے- اس کے بعد ردر فورڈ (Ernest Rutherford) کے زمانے میں معلوم ہوا کہ دنیا ایک میننگ فل ڈزائن (meaningful design)ہے- اِس کے بعد فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کا زمانہ آیا، جب کہ یہ دریافت ہواکہ دنیا ایک انٹیلجنٹ ڈزائن (intelligent design) ہے-
اِن دریافتوں کو سامنے رکھ کر غور کیاجائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا کا وجود علمی طورپر دریافت ہوچکا ہے- اب سارا معاملہ صرف تسمیہ (nomenclature) کا ہے، یعنی یہ کہ اِس دریافت شدہ حقیقت کا نام کیا ہو- فلسفیوں نے اِ س حقیقت کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) کہا تھا- سائنس اِس کو انٹیلجنٹ ڈزائن کہہ رہی ہے- اہلِ مذہب کی زبان میں اِسی حقیقت کا نام خدا (God) ہے-سائنس نے صرف تخلیق کو دریافت کیا، لیکن تخلیق کے دریافت کے ساتھ ہی خالق اپنے آپ دریافت ہوجاتا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔