ابوالعتاہیہ (وفات: 825ء) عبا سی دور کے ایک عرب شاعر ہیں- اُن کا ایک شعر یہ ہے— ہر چیز میں اس کے لیے ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ وہ ایک ہے:
وفی کلّ شیء لہ آیة تدلّ على أنہ الواحد
یہ شعر بجائے خود ایک اچھا شعر ہے، لیکن چیزوں میں نشانیوں (signs) کا موجود ہونا اپنے آپ میں نصیحت کے لیے کافی نہیں- نصیحت کے لیے ضروری ہے کہ چیزوں کو دیکھنے والا صاحبِ عقل ہو- اِسی لیے قرآن میں زمین اور آسمان کی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ کہاگیا ہے کہ: لآیات لقوم یعقلون (2:164) یعنی اِن نشانیوں سے نصیحت صرف اُن لوگوں کو ملتی ہے جو عقل والے ہوں-
عقل سے مراد سوچنے کی صلاحیت ہے، یعنی چیزوں کو سادہ طورپر نہ لینا، بلکہ اُن پر غور کرنا- قرآن میں آیا ہے کہ: وَکَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْہَا وَہُمْ عَنْہَا مُعْرِضُوْنَ (12:105) یعنی آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر اُن کا گزر ہوتارہتا ہے اور وہ اُن سے اعراض کرتے ہیں-
اعراض کا مطلب ہے روگردانی کرنا- آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ بار بار نشانیوں (signs) کو دیکھتے ہیں، مگر وہ اس پر دھیان نہیں دیتے، وہ اُس پر زیادہ غور نہیں کرتے، وہ اُس سے سبق لینے کی کوشش نہیں کرتے- نشانیاں بلا شبہہ اپنی ذات میں نشانیاں ہیں، لیکن وہ زندگی کے لیے سبق آموز صرف اُس وقت بنتی ہیں جب کہ آدمی ٹھہر کر ان کے بارے میں سوچے، وہ چیزوں کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کرے-
نشانیوں سے مراد کوئی محدود چیز نہیں ہے- ہر مشاہدہ اور ہر تجربہ ایک نشانی ہے- ہر واقعے میں نشانی کا ایک پہلو ہے- آدمی کو چاہیے کہ وہ نشانیوں کو دریافت کرے اور اُن کے ذریعے اپنے فکری رزق (intellectual food) کا سامان کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔