اسلام میں مصدر شرعی کی حیثیت صرف دو چیزوں کو حاصل ہے— قرآن اور سنت- قرآن اور سنت دونوں ابدی طورپر شرعی مصدر کی حیثیت رکھتے ہیں- قرآن اِس لیے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور سنت اِس لیے کہ وہ اللہ کے پیغمبر کا کلام یا اس کا عمل ہے- قرآن اور سنت کے سوا کسی اور چیز کو یہ درجہ حاصل نہیں-
تیسری چیز وہ ہے جس کو قرآن میں استنباط (4:83) اور حدیث میں اجتہاد کہاگیا ہے- استنباط یا اجتہاد اسلام کی عملی ضرورت ہے- بدلے ہوئے حالات میں اسلام کے ابدی اصولوں کا انطباقِ نو (re-application) درکار ہوتا ہے- اجماع یا رائے جمہور اِس انطباق کی دو عملی صورتیں ہیں-
بعد کے زمانے میں جب کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو علماءِ اسلام کو یہ کرنا ہوگاکہ وہ اُس پر کام کریں اور استنباط یا اجتہاد کے ذریعے یہ معلوم کریں کہ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کی تعلیم کو کس طرح منطبق (apply) کیا جاسکتا ہے- علماء کی یہ رائے اگر کامل اتفاق (consensus)سے بنی ہو تو اس کو اجماع کہا جائے گا اور اگر وہ اکثریت (majority)کی رائے پر بنی ہو تو اس کو رائے جمہور کہا جائے گا- تاہم اجماع یا رائے جمہور دونوں میں سے کوئی بھی ابدی نہیں-
حقیقت یہ ہے کہ دین میں قرآن اور سنت کی حیثیت مطلق مرجع (absolute reference) کی ہے- قرآن وسنت کی تعلیمات اصولاً ہمیشہ اور ہر دور میں قابلِ اتباع رہیں گی- اُن میں حالات کے اعتبار سے، نئی تشریح یا نئی تاویل تو کی جاسکتی ہے، لیکن اُن کا حکمِ شرعی ہونا ہمیشہ یکساں طورپر مطلوب ہوگا- مگر جہاں تک اجماع یا رائے جمہور کی بات ہے، وہ عملی تقاضا (practical reason) کی بنا پر دین کا حصہ ہیں، یعنی جب تک وہ حالات باقی ہیں، جن میں کوئی مسئلہ اجماعی یا جمہوری طورپر بنایا گیا تھا، اُس وقت تک وہ بھی باقی رہیں گے، اور جب حالات بدل جائیں توضرورت ہوگی کہ ازسرِ نو اُن کا حکم متعین کیاجائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔