Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala October 2013
Al-Risala October 2013

سورہ الفاتحہ کا پیغام

Urdu · 5 min read

الفاتحہ قرآن کی پہلی سورہ ہے- اِس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: ’’حمد صرف اللہ کےلیے ہے جو سارے عالَم کا رب ہے- وہ رحمان اور رحیم ہے- روزِ جزا کا مالک ہے- ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں- ہم کو صراطِ مستقیم پر چلا- اُن کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا- اُن کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ اُن لوگوں کاراستہ جو صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے‘‘-

قرآنمیںاِس سورہ کا نام الفاتحہ ہے- فاتحہ کا لفظی مطلب ہے:ابتدا (The Opening)- یہ لفظ ترتیب کو بتاتا ہے، یعنی 114 سورتوں کی کتاب کی پہلی سورہ- مفسر صحابی عبد اللہ بن عباس نے کہا کہ: أساس القرآن الفا تحة(القرطبی 1/113)- یہ قول اِس سورہ کے معنوی پہلو کو بتاتا ہے- اساس کا لفظی مطلب ہےبنیاد- اِس کا مطلوب یہ ہے کہ سورہ الفاتحہ میں، قرآن کی تمام بنیادی باتیں (fundamentals) بیان کردی گئی ہیں- دوسرے لفظوں میں یہ کہ سورہ الفاتحہ قرآن کی تعلیمات کا خلاصہ ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سورہ الفاتحہ کے مضامین کو 5 عنوانات کے تحت تقسیم کیا جاسکتاہے— (1) خدا کی معرفت یعنی خدا کے وجود کو شعورکی سطح پر دریافت کرنا- (2) انسان کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ کی دریافت- (3) اللہ کا عبادت گزار بننا جو اللہ کی معرفت کا لازمی نتیجہ- (4) ربانی ماڈل کی نظری دریافت (5) ربانی ماڈل کی عملی ردیافت اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر وتشکیل-

1- ’’حمدصرف اللہ کے لیے ہے جو سارے عالم کا رب ہے- وہ رحمان اور رحیم ہے‘‘- یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ خدا کی دریافت کا مطلب کیاہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے جب کہ وہ خدا کو ایک ایسی ہستی کے طورپر پالے جس کا ایک مستقل وجود ہے، جو سارے عالم کو پیدا کرنے والا اور اس کو کنٹرول کرنے والا ہے- خدا کی سب سے بڑی صفت رحمت اور رافت کی صفت ہے- اِس دریافت کو ایک لفظ میں ربانی دریافت کہاجاسکتا ہے- اِس دریافت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ انسان کے اندر یقین کا چشمہ ابل پڑتا ہے- وہ ایک تھرل (thrill) کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، ساری تعریف تیرے لیے ہے اور ساری عظمت (glory) تیرے لیے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2- ’’وہ روزِ جزا کا مالک ہے‘‘ — روزِ جزا (Day of Judgement) کا مالک ہونا، خداکے پورے تخلیقی منصوبے کو بتاتا ہے- یہ الفاظ بتارہے ہیں کہ انسان کی تخلیق اتفاقی طور پر یا بے مقصد نہیں ہوئی ہے- وہ ایک اعلی منصوبہ بند (well-planned) تخلیق ہے- اِس منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ(testing ground) ہے- یہاں افرادِ کو ان کے ریکارڈ کے مطابق، منتخب کیا جارہا ہے- اِس کے بعد ایک وقت آئے گا، جب کہ موجودہ امتحانی دورِ حیات ختم ہواور دوسرا دورِ حیات آئے، جہاں ہر انسان کے لیے اس کے ریکارڈ کے مطابق، اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3- ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘ — عبادت اور استعانت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں- جب ایک انسان کو اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طورپر وہ اللہ کے آگے سرینڈر کردیتاہے- اِس سرینڈر کا ایک پہلو عبادت ہے اور دوسرا پہلو استعانت- اپنے وجود کی سطح پر اِس کا جو اظہار ہوتاہے، اسی کا نام عبادت ہے- اِسی کے ساتھ وہ اللہ سے اِس کا طالب بن جاتاہے کہ وہ اس کو حقیقی فلاح عطا کرے- اِسی کا نام استعانت باللہ ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

4- ’’ہم کو سیدھے راستے پر چلا‘‘ — جب انسان کو حقیقت کی دریافت ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ افکار کے جنگل میں اپنے لیے ذاتی طورپر زندگی کا صحیح راستہ دریافت کرنا اس کے لیے ممکن نہیں- یہ واقعہ اس کو متلاشی (seeker) بنا دیتا ہے- وہ اپنے دل کی گہرائیوں کے ساتھ اِس بات کا طالب بن جاتاہے کہ خدا کی مدد سے وہ اپنے لیے صحیح نظریۂ حیات (ideology of life) سے واقف ہوسکے- صحیح نظریہ حیات کی یہ طلب اس کو اپنے پورے دل اور اپنے پورے دماغ کے ساتھ دعا گو بنادیتی ہے- اِس طرح کی حقیقی دعا جب کسی کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ اپنے آپ میں اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ خدا اس کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی عطا کرے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

5- ’’اُن لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا، اُن لوگوں کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ اُن لوگوں کا راستہ جو صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے‘‘ — مراد صراطِ مستقیم کا عملی ماڈل ہے، یعنی وہ ہدایت یاب انسان جو اپنی زندگی میں ہدایت الہی کو عملاً اختیار کرلے اور اِس طرح وہ دوسروں کے لیے ماڈل بن جائے-انعام کے اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی سورہ النساء کی اِس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕکَ رَفِیْقًا (4:69) یعنی جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح- کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں چار ایسے گروہوں کا ذکر ہے جو اللہ کے انعام کے مستحق قرار پائے- وہ چار گروہ یہ ہیں — انبیا، صدیقین ، شہدا، اور صالحین- یہ چار گروہ صراطِ مستقیم کے لیے عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں- تاہم اِن چاروں گروہ کی حیثیت یکساں نہیں- انبیا کو خدا کی طرف سے براہِ راست رہنمائی حاصل ہوتی ہے- اِس لیے ابنیا کی حیثیت اِس معاملے میں اصلاً ہے، اور دوسرے گروہوں کی حیثیت تبعاً- دوسرے لفظوں میں یہ کہ انبیاکی حیثیت اِس معاملے میں مطلق طورپر ہے، اور دوسرے کی حیثیت اضافی طور پر- انبیا کو اُن کی وحی کی نسبت سے پہچاننا ہے، جب کہ دوسرے گروہوں کو اِس اعتبار سے کہ انھوں نے انبیا کا کامل اتباع کیا- گویا انبیاکو جانچنے کا معیار وحی الہی ہے، اور بقیہ دوسرے لوگوں کو جانچنے کا معیار اتباعِ رسول-

مغضوب اور ضال دونوں ایک ہی کردار کے دو درجے ہیں- ضال سے مراد وہ انسان ہے جو سچائی کے راستے سے بھٹک گیاہو- اور مغضوب سے مراد وہ انسان ہے جس کا بھٹکاؤ صرف بھٹکاؤ نہ ہو، بلکہ لمبی مدت کی کنڈیشننگ کے بعد وہ اپنے مسلک پر اتنا پختہ ہوجائے کہ اس کی واپسی کی امید باقی نہ رہے- (2012)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content