Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Al-Risala October 2013
Al-Risala October 2013

وحدتِ ادیان کا نظریہ

Urdu · 15 min read

نجات کا دارومدار

قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ګ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ(2:62) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی، ان میں سے جو شخص ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اس نے نیک کام کیا تو اس کے لئے اس کے رب کے پاس اجر ہے۔ اور ان کے لئے نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غم گین ہوں گے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں دراصل گروہی نجات (group-wise salvation) کی نفی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں ہر پیغمبر کے نام پر نسلی گروہ بن جاتے ہیں- ہر نسلی گروہ اپنی فضیلت کا مدعی ہوتاہے- وہ یہ عقیدہ بنا لیتاہے کہ نجات صرف ہمارے گروہ کے لیے ہے، گروہ سے باہر کے افراد کے لیے نہیں- مبنی برگروہ نجات کا یہ تصور تمام تر اللہ کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے- قرآن کی مذکورہ آیت میں اِسی خود ساختہ عقیدے کی تردید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیاہےکہ نجاتِ اُخروی کا تعلق ہر فرد کے اپنے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ کسی مخصوص نسلی گروہ کے ساتھ نسلی تعلق سے-

مثلاً یہود نے بعد کے دور میں یہ عقیدہ بنا لیا کہ وہ اللہ کا منتخب گروہ (chosen people) ہیں- نجات صرف اُس شخص کے لیے ہے جو اِس یہودی گروہ سے تعلق رکھتا ہو- مسیحی لوگوں نے یہ عقیدہ بنایا کہ فرزند ِ خدا (son of God) ان کے گناہوں کے لیے مصلوب ہوگئے، اِس لیے نجات صرف اُن کے گروہ کا حق ہے- یہی معاملہ بعد کے دور میں خود مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا- مسلمانوں نے خودساختہ طورپر یہ عقیدہ بنا لیا کہ ہم خیر الامم ہیں، ہم اللہ کا خصوصی گروہ ہیں، نجات صرف اُس شخص کے لیے  ہے جو اِس گروہ میں شامل ہو- قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ اِن نسلی گروہ بندیوں کا نجات سے کوئی تعلق نہیں، نجات کا تعلق ہر فرد کے ذاتی عمل سے ہے، نہ کہ کسی گروہ کے ساتھ نسلی تعلق سے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیاہے کہ کسی انسان کی نجات کا مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے- اِس میں ایمان بالرسول اپنے آپ شامل ہے-جو شخص بھی آخرت کی نجات کا حریص ہو، وہ لازماً رسول کا مومن بن جائے گا، کیوں کہ رسول کے بغیر یہ جاننا ممکن نہیں کہ ایمان کیا ہے اور عملِ صالح کیا- ختمِ نبوت کے بعد مستند رسول کی حیثیت صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے- اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب نجات صرف اُس شخص کے لیے ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے مطابق، ایمان اور عملِ صالح کی زندگی اختیار کرے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خاتم النبیین کے مستند ماڈل ہونے کی بات صرف عقیدے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ علمی اور عقلی اعتبار سے، پوری طرح قابل فہم بات ہے- بجائے خود یہ بات درست ہے کہ پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے اور انھوںنے انسان کو ایمان اور عملِ صالح کی تلقین کی- اب آج کے لوگوں کے لیے اِن پیغمبروں سے ہدایت لینے کا طریقہ کیا ہوگا، وہ صرف ایک ہے اور وہ ہے تاریخی استناد - اِس معاملے میں آج کے انسان کے لیے صرف ایک راستہ ہے، وہ یہ کہ وہ تمام پیغمبروں کے ورثہ کو تاریخ کے معیار پر جانچے اور پھر جس پیغمبر کو وہ تاریخی طورپر مستند پائے، اس کو وہ اپنے رہنما کے طورپر اختیار کرلے- یہی اِس معاملے میں صحیح علمی اور عقلی طریقہ ہے-اِس معاملے میں یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ تمام پیغمبروں میں ایک ہی پیغمبر ہیں جو تاریخی استناد کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور وہ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

وحدتِ ادیان

وحدتِ ادیان ایک مشہور مذہبی نظریہ ہے- دنیا میں بڑی تعداد میںایسے لوگ ہیں جو اِس نظریے پر عقیدہ رکھتے ہیں- مثال کے طورپر مغربی دنیا کے مشہور اسکالر ڈبلوسی اسمتھ (Wilfred Cantwell Smith, d. 2000) اور انڈیا کے مشہور ہندو عالم آچاریہ ونوبا بھاوے (وفات: 1982)، وغیرہ- اِس موضوع پر مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں- اُن میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کو ڈاکٹر بھگوان داس (وفات: 1958) نے طویل مدت کے مطالعے کے بعد تیار کیا ہے- اِس کتاب کا نام یہ ہے:

Essential Unity of All Religions by Dr. Bhagwan Das, Bombay (1990)

other sourceWords of another person or source

وحدتِ ادیان ایک مستقل مذہبی نظریہ ہے- اِس نظریے کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ — تمام موجود مذاہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک ہیں- اُن میں جو فرق ہے، وہ اس کے ظاہری فارم (form) کے اعتبار سے ہے اور فارم کا یہ فرق اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real) - اِس نظریے کے مطابق، تمام موجود مذاہب سچے ہیں- اُن میں سے جس مذہب کو بھی آدمی اختیار کرے، وہ اس کے لیے نجات (salvation) کا ذریعہ بن جائے گا، نجات کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں-

جو لوگ وحدتِ ادیان کے اِس نظریے کو مانتے ہیں، وہ عام طورپر اِس کے حق میں دو دلیلیں دیتے ہیں- اُن کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہی واحد نظریہ ہے جس کے ذریعے دنیا میں سماجی ہم آہنگی (social harmony) قائم کی جاسکتی ہے- اُن کے نزدیک مختلف گروہوں کے درمیان ٹکراؤ اور تشدد کا سبب مذہبی اختلاف ہے- اگر یہ مان لیا جائے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، تمام مذاہب ایک ہیں تو مختلف گروہوںکے درمیان جاری رہنے والے ٹکراؤ اور تشدد کا خاتمہ ہوجائے گا- اُن کی دوسری دلیل یہ ہے کہ مذاہب کے درمیان اختلاف محض ظاہری ہے- گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام مذاہب حقیقتاً ایک ہیں- یہ دراصل ایک ہی ابدی سچائی ہے جو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وحدتِ ادیان اور سماجی ہم آہنگی

اِس معاملے کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وحدتِ ادیان کے نظریے کا سماجی ہم آہنگی سے کوئی تعلق نہیں- بالفرض اگر یہ مان لیاجائے کہ تمام مذاہب ایک ہیں، تب بھی لوگوں کے درمیان بہت سے اختلاف (differences) باقی رہیں گے اور دوبارہ یہ مسئلہ موجود رہے گا کہ لوگوں کو اختلاف کی بنیاد پر ٹکراؤ سے کس طرح بچایا جائے- مثلاً تیرھویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگ مذہب کے نام پر ہوئی تھی- اس کے بعد پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ ، دونوں ایسے اختلاف کی بنیاد پر ہوئیں جن کا مذہب سے کو ئی تعلق نہ تھا-اصل یہ ہے کہ فرق واختلاف فطرت کا حصہ ہے- انسانی زندگی میں فرق واختلاف خود انسان کا پیدا کردہ نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر خود فطرت کے نظام کا حصہ ہے- ایک اسکالر نے درست طورپر کہا ہے کہ— فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے(Nature abhors uniformity)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے کا حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے، بلکہ اختلاف کو باقی رکھتے ہوئے اس کو مینج (manage) کرنا ہے- اِس معاملے میں ہم کو جس فارمولے کی ضرور ت ہے، وہ یہی ہے- جب فطری طورپر انسانوں کے درمیان اختلاف کو مٹانا ممکن نہ ہو تو ایسی کوئی تجویز صرف ایک رومانوی تخیل (romantic idea) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں مسئلے کا حل-

اِس معاملے کا واحد عملی حل یہ ہے کہ زندگی کے دوسرے معاملات میں جو فارمولا اختیار کیا جاتا ہے، اُسی کو مذہبی اختلاف کے معاملے میں بھی اختیار کرلیا جائے- مثلاً ریاستوں کے درمیان سیاسی اختلاف کے معاملے میں بھی یہی فارمولا قابلِ عمل ہے- قرآن میں اِسی فارمولے کو اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: لکم دینکم ولی دین( 109:6) یعنی تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین- اِس فارمولے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اپنی دریافت کے مطابق، ایک دین کی پیروی کرو اور دوسروں کا احترام کرو:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Follow one and respect all.

دوسری بات یہ کہ مذاہب کے درمیان فرق واختلاف کوئی برائی (evil) نہیں ہے، بلکہ اس کی حقیقت ایک رحمت (blessing) کی ہے- اِسی فرق واختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوتاہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائلاگ ہو اور اِس طرح نئے نئے پہلو واضح ہوتے رہیں- حقیقت یہ ہے کہ فرق واختلاف ایک فکری چیلنج (intellectual challenge) ہے اور فکری چیلنج ہمیشہ مفیدہوتاہے- آرنلڈ ٹائن بی کے الفاظ میں، چیلنج اور جوابِ چیلنج کا عمل (challenge-response-mechanism) ہی وہ واحد عمل ہے جس سے تمام ترقیاں ظہور میں آتی ہیں- اگر یہ عمل باقی نہ رہے تو ترقیوں کا بھی خاتمہ ہوجائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امر واقعہ اور وحدتِ ادیان

وحدتِ ادیان کانظریہ سچائی (truth) کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتاہے- انسان پیدائشی طورپر متلاشی حق (truth-seeker) ہے- ہر عورت اور مرد کے اندر یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ سچائی کو جانے، سچائی ہر ایک کا سب سے بڑا مطلوب ہے- یہ دراصل سچائی کی دریافت ہے جو کسی انسان کو اِس قابل بناتی ہے کہ وہ اِس دنیا میں یقین (conviction) پر کھڑا ہو- یہ احساس کہ میں نے آخری سچائی کو دریافت کرلیا ہے، یہی اِس دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے- جو عورت یا مرد اِس احساس سے خالی ہوں کہ میں نے سچائی (truth) کو دریافت کرلیا ہے، ان کی حیثیت بلاشبہہ صرف ایک حیوان کی ہے، ایسا آدمی حقیقی معنوں میں، انسان کےدرجے تک نہیں پہنچا-

زندگی ایک مشکل امتحان ہے- اِس دنیا میں آدمی کو مختلف قسم کے ناموافق حالات میں جینا پڑتا ہے- ایسی حالت میں اس کو ایک یقین درکار ہے جس کے اوپر وہ کھڑا ہوسکے- یہ یقین کسی مادّی یافت (material gain)کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا، کیوں کہ اِس محدود دنیا میں مادّی یافت ہمیشہ ناتمام ہوتی ہے اور ناتمام یافت کسی انسان کو لازوال یقین نہیں دے سکتی-

اِس محدود دنیا میں صرف ایک چیز ہے جو لامحدود ہے اور وہ سچائی (truth) ہے- سچائی کا تصور ایک ناقابلِ تقسیم تصور ہے- سچائی اپنے آپ میں کمال کو چاہتی ہے- جس سچائی کے ساتھ کمال کا تصور موجود نہ ہو، وہ بلاشبہہ سچائی نہیں- انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، اِس احساس میں جینا چاہتا ہے کہ میں نے اعلی سچائی کو پالیا ہے- ایسی حالت میں وحدتِ ادیان کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو انسان کی فطرت سے ٹکراتا ہے، اور یہی ٹکراؤ اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تصور درست نہیں-

تمام مذاہب حقیقتاً ایک ہیں — ایک غیر سائنٹفک نظریہ ہے- کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اِس قسم کا بیان دے- جو شخص ایسا کہے، اُس سے فطری طورپر یہ سوال کیا جائے گا کہ تم کس حق کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہو- حقیقت یہ ہے کہ مذاہب کے بارے میں کوئی بیان آدمی صرف اپنی ذات کی نسبت سے دے سکتا ہے، دوسرے کی نسبت سے نہیں-

وحدتِ ادیان کے تصور کے تجزیہ کے دو خاص پہلو ہیں — ایک، یہ کہ اصولی یا نظری طورپر یہ تصور مبنی بر حقیقت ہے یا نہیں- اِس معاملےکا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا اِس طرح دنیا میں سماجی امن (social peace) آسکتا ہے کہ تمام ادیان کو ایک مان لیا جائے -

جہاں تک اِس معاملے کے اولین پہلو کا تعلق ہے، عملی طورپر یہ بات غیر ثابت شدہ ہے کہ تمام مذاہب ایک ہیں- اِس لیے کہ مختلف مذاہب کے درمیان اتنا زیادہ فرق ہے کہ ان کو ایک کہنا کسی بھی طرح ممکن نہیں- مثلاً کسی مذہب میں توحید (monotheism) کا عقیدہ ہے اور کسی مذہب میں وحدتِ وجود (monism) کا عقیدہ- اِسی طرح کسی مذہب میں ایک خدا کا تصور ہے اور کسی مذہب میں تین خدا کا تصور- اِسی طرح کسی مذہب میں نجات کا مدار عمل پر ہے اور کسی مذہب میں نجات کا مدار نسل پر- اِسی طرح کسی مذہب میں یہ تصور ہے کہ موت کے بعد فوراً دار الجزا شروع ہوجاتا ہے اور کسی مذہب میں اِس کے برعکس، پُنر جنم (rebirth) کا تصور ہے، وغیرہ- مختلف مذاہب کے درمیان اِس طرح کے بے شمار تضادات پائے جاتے ہیں- ایسی حالت میں یہ کہنا کہ ’’تمام مذاہب ایک ہیں‘‘، سرتاسر ایک غیر علمی بات ہے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

جو لوگ وحدتِ ادیان کی بات کرتے ہیں، اُن کا طریقہ یہ ہے کہ انھوں نے بطور خود مذہب کا ایک خود ساختہ معیار بنایا ہے اور اِسی خود ساختہ معیار کے تحت انھوں نے اعلان کردیا کہ تمام مذاہب ایک ہیں- مثلاً یہ قول کہ ’’تمام مذاہب کی منزل ایک ہے، راستے جداجدا ہیں‘‘، یہ صرف ایک تمثیل ہے اور اِس طرح کی تمثیل سے کوئی علمی بات ثابت نہیں ہوتی- دوسری بات یہ کہ تمام ادیان کو ایک ماننے سے سماجی امن قائم ہوجائے گا- یہ حل صورت ِحال کے غیر واقعی تصور پر مبنی ہے- واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے، نہ کہ صرف مذہب کا ایک حصہ- اگر وحدتِ ادیان کے نظریے کو مان لیا جائے، تب بھی لوگوں کے درمیان بے شمار اختلاف موجود رہتےہیں- ایسی حالت میں وحدتِ ادیان کا نظریہ اصل مسئلے کی نسبت سے، ایک غیر متعلق نظریہ ہے، وہ ہرگز اصل مسئلےکو حل کرنے والا نہیں-

اِس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے، ایک ایسی مخلوق ہے جو صرف ایک چیز پر کامل یقین رکھ سکتا ہے- اِس دنیا میں جینے کے لیے آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ یقین کرے کہ اس نے واحد سچائی کو پالیا ہے- وہ ٹرتھ ود دی کیپٹل ٹی (Truth with the capital T) تک پہنچ گیا ہے- اِس دریافت کے بغیر انسان اِس دنیا میں کامل یقین پر کھڑا نہیں ہوسکتا-

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ تعددِ حقیقت (manyness of reality) کی بات کرتے ہیں، جو بظاہر یہ اعلان کرتے ہیں کہ تمام مذاہب سچے ہیں، وہ خود بھی اندر سے صرف ایک سچائی پر عقیدہ رکھتے ہیں- اِس کی ایک مثال مہاتما گاندھی کی ہے- وہ اِس مذہبی اصول کے زبردست داعی تھے کہ رام اور رحیم ایک ہیں- ان کے آشرم میں ہر صبح کو یہی گیت گایا جاتا تھا- لیکن 30 جنوری 1948 کو جب ایک تشدد پسند آدمی نے ان کو گولی مار کر ہلاک کردیا تو آخر وقت میں ان کی زبان سے جو کلمہ نکلا، وہ ’’ہِے رام‘‘ تھا، نہ کہ ہے رام، ہے رحیم- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اگر چہ کہنے کے لیے یہ کہتے تھے کہ رام اور رحیم ایک ہیں، لیکن وہ جس یقین پر کھڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھا جو آخر وقت میں ان کی زبان سے نکلا-

حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ ادیان کا تصور دین کی نفی ہے- انسان کو دین کی ضرورت کس لیے ہے- وہ اس لیے ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے، ایک متلاشی حق حیوان ہے- انسان کی یہ فطرت صرف اُس وقت ایڈریس ہوسکتی ہے، جب کہ وہ ایک دین کو واحد سچائی کے طور پر دریافت کرسکے- اِس سے کم تر درجے کا کوئی عقیدہ انسان کی فطرت کو مطمئن نہیں کرسکتا-

اِس ضمن میں یہ بحث غیر متعلق ہے کہ کسی کا یہ سمجھنا کہ اس نے جس سچائی کو دریافت کیا ہے، وہی سچائی ہے اور دوسری کوئی سچائی نہیں، اِس سے دوسرے کے بارے میں نفرت پیدا ہوتی ہے- یہ اعتراض بلا شبہہ سچائی کی تصغیر ہے- حقیقت یہ ہے کہ سچائی جب کسی شخص کو حاصل ہوتی ہے تو وہ اُس کو ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر کردیتی ہے- اگر کوئی شخص سچائی کو پانے کا دعوی کرے اور اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کے بارے میں منفی ذہن میں مبتلا ہو تو ایسا شخص گویا یہ اعلان کررہا ہے کہ میں نے سچائی کو نہیں پایا، میں کسی اور چیز پر کھڑا ہوا ہوں، نہ کہ سچائی پر-

اِسی طرح، وحدتِ ادیان کے وکیل یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ وحدتِ ادیان کو نہیں مانتے، وہ یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ نجات (salvation) صرف اُن کے لیے ہے، دوسرے کے لیے نجات نہیں- یہ بات سرتا سر بے بنیاد ہے- حقیقت یہ ہے کہ نجات تمام تر خدا کے دائرہ (domain)کی چیز ہے- نجات کا فیصلہ کرنے والا صرف خدا ہے، کوئی بھی انسان اِس معاملے میں سرے سے فیصلہ کرنے کا مطلق کوئی حق نہیں رکھتا- یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جو شخص یا گروہ یہ سمجھ لے کہ ہم نجات یافتہ ہیں اور دوسرے لوگ نجات یافتہ نہیں، ایسے لوگ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کررہے ہیں کہ وہ خود باطل پر ہیں- کیوں کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو یہ حق نہیں کہ جو فیصلہ آخرت میں خدا کی عدالت میں ہونے والا ہے، اس کا فیصلہ وہ اِسی دنیا میں خدا کی طرف سے کردے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وحدتِ ادیان کو ماننے والے اپنے نظریے کی تائیدمیں ایک بات یہ کہتے ہیں کہ مذہب کی اصل اطاعت ہے، نہ کہ کسی مذہبی گروہ سے وابستگی- یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اطاعت کا ماڈل کیاہے- کوئی شخص یہ نہیں کرسکتا کہ مذہبی کتاب سے لفظ اطاعت لے اور اس کا مفہوم خود اپنے ذہن سے متعین کرے- اِس قسم کا استدلال ایک غیر سنجیدہ فعل ہے، وہ کوئی علمی استدلال نہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس سلسلے میں جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، قرآن میں بلا شبہہ اصل اہمیت اطاعت کو دی گئی ہے، لیکن اسی کے ساتھ قرآن میں یہ بھی بتایا گیاہے کہ اطاعت کا ماڈل کیاہے- یہ ماڈل اللہ کا رسول ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہ سنت کی شکل میں رسول کی زندگی کا جو نمونہ (model) مستند طورپر موجود ہے، وہی نمونہ ہمیشہ کے لیے اطاعت کا واحد ماڈل رہے گا- کسی کو یہ حق نہ ہوگا کہ وہ قرآن سے لفظ اطاعت لے اور اس کا عملی نمونہ بطور خود وضع کرے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں دوسرے رسولوں کو بھی نمونے کے طورپر پیش کیا گیا ہے (6:90)- لیکن یہ خود قرآن کے معنی میں ہے، نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے وضع کردہ معنی میں- اِس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں جن رسولوں کے نام آئے ہیں، اور اُن کے جو نمونے خود قرآن میں مذکور ہیں، وہی مستند نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں- دوسرے پیغمبروں کی صرف وہی بات مستند طورپر قابلِ اختیار ہوگی جو قرآن کی تعلیمات سے مطابقت رکھنے والی ہو-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content