ابو ذر غفاری ایک صحابی ہیں- ان کے یہاں ایک غلام تھا جو سیاہ فام نسل سے تعلق رکھتا تھا- ابو ذر غفاری کو کسی وجہ سے اپنے غلام پر غصہ آگیا- انھو ں نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: یا ابنَ السوداء (اے سیاہ فام عورت کی اولاد)- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہواتو آپ نے ابو ذر غفاری سے فرمایا: إنک امرؤ فیک جاہلیة (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 30) یعنی تم ایسے شخص ہو جس کے اندر ابھی تک جاہلیت موجود ہے-
اِس قولِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے اندر ابھی تک پچھلے دور کے اثرات موجود ہیں- اصل یہ ہے کہ ہر آدمی ایک کلچرل ماحول میں پیدا ہوتا ہے- اِسی کلچر میں پرورش پاکر وہ بڑا ہوتا ہے- وہ روزانہ اِس کلچر کے اثرات قبول کرتا رہتا ہے، کبھی شعوری طور پر اور زیادہ تر غیر شعوری طورپر، یہاں تک کہ اس کی سوچ اور اس کا شعور سب اُسی کلچر میں ڈھل جاتے ہیں- اِسی کا نام کنڈیشننگ (conditioning) ہے- اِس کلچرل کنڈیشننگ سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں-
جب کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ، نظری طورپر اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے باوجود، کلچر کے اعتبار سے اس کی سوچ اور اس کی عادات پہلے کی طرح باقی رہتی ہیں- ایسی حالت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کی سوچ کو بدلا جائے، تاکہ وہ کلچر کے اعتبار سے اپنی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning)کرسکے-
یہ کلچرل ڈی کنڈیشننگ (cultural de-conditioning)ایک بے حد مشکل کام ہے- یہ مشکل کام صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس کا شعور اتنا زیادہ بے دار ہو کہ وہ سختی کے ساتھ اپنا محاسبہ کرے- وہ نہایت بے رحمی کے ساتھ اپنے اندر سے پچھلے دور کے کلچرل اثرات کو دھو ڈالے — کلچرل ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت صرف نو مسلموں کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ پیدائشی مسلمانوں کے لیے بھی یکساں طورپر ضروری ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔