← Al-Risala October 2012Al-Risala October 2012
اِحیاءِ سنت
Urdu · 6 min read
دین کا نام کبھی دنیا سے ختم نہیں ہوتا- جو چیز دنیا سے ختم ہوتی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی سنت ہے- ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تمسک بسنّتی عند فساد أمتی، فلہ أجر مأة شہید (تاریخ الإسلام للذہبی، رقم الحدیث: 3097) یعنی میری امت میں بگاڑ کے وقت جس نے میری سنت کو پکڑا، اس کے لیے سو شہیدوں کا اجر ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام کی راہ میں لڑ کر اپنی جان دے دینا ایک ایسا عمل ہے جس کا اللہ تعالی کے یہاں بڑا انعام ہے- مگر بگاڑ کے زمانے میں اپنے آپ کو سچے دین پر قائم کرنے کا اجر اس سے سو گنا زیادہ بتایا گیاہے- اِس کی وجہ یہ ہے کہ اول الذکر اپنے آپ کو ایک دن قربان کرتاہے جب کہ ثانی الذکر کو ہر روز اپنے آپ کو قربان کرنا پڑتاہے-
امت کے اندر جب بگاڑ آتاہے تو اُس وقت یہ حال ہوجاتا ہے کہ ایک بگڑے ہوئے مذہب کا نام دین بن جاتاہے- سارے دینی ادارے، تمام دینی اعزازات اِسی بگڑے ہوئے مذہب سے وابستہ ہوجاتے ہیں- دین کے تمام شعبوں میںایسے لوگ قبضہ پالیتے ہیں جو دین کو تجارت بناچکے ہوتے ہیں- خواص اپنے مصالح کی بنا پر، اور عوام اپنی جہالت کی بنا پر، اِسی بگڑے ہوئے دین کومضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں- ایسی حالت میں جب کوئی بندہ خدا کے سچے اور بے آمیز دین کو لے کر اٹھتا ہے، تو سارے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ اُس شخص کا دین اِن کے اپنے دین کو بے اعتبار بنا رہا ہے- وہ فوراً اُس کےمخالف بن جاتے ہیں- اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رسولِ خدا والے طریقہ کو پکڑنے والا آدمی خود اپنے معاشرے میں بے جگہ ہوجاتاہے، وہ سب کے درمیان ایک غیر مطلوب شخص بن جاتا ہے-
بگاڑ کے زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ وقتی اور رسمی عملیات کو لوگ جنت کا ٹکٹ سمجھ لیتے ہیں، اِس کے مقابلے میں سنتِ رسول کو پکڑنے والا آدمی حقیقی اعمال پر جنت کا مدار رکھتاہے- لوگ مذہبی مناظرے اور سیاسی مجادلے کے مشغلوں کو دینی کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں، وہ بتاتا ہے کہ صبر اور قربانی کے طریقوں کو اختیار کرنے کا نام دین ہے- لوگ اپنے دنیوی ہنگاموں کو دین کا عنوان دئے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ آخرت کے لیے جینے اور مرنے کانام دین ہے- لوگ احبار ورُہبان کے دین کو پکڑے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ دین وہ ہے جو خدا اور رسول سے ملا ہو- لوگ اپنے بزرگوں کے ارشادات وملفوظات سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ قرآن وسنت والے دین کو اپنا دین بناؤ- لوگ قصے کہانیوں کے ذریعے اپنا ایک دینی ایڈیشن تیار کرکے اس کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اِس کے بجائے محکم آیات اور ثابت شدہ سنتِ رسول پر اپنے دین کی بنیاد رکھو- لوگ اپنے طورپر مختلف قسم کی مذہبی موشگافیاں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو دین کا قائم مقام بنا لیتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اُس صاف اور سیدھے دین کو اختیار کرو جو خدا اور رسول نے بتایا ہے اور جو اصحابِ رسول کے ذریعے ہم کو پہنچا ہے-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
جو شخص اِس قسم کا دین بگڑے ہوئے زمانے میں لے کر اٹھے، وہ لوگوں کی نظر میں کافر اور مشرک سے بھی زیادہ مبغوض ہوجاتا ہے، کیوں کہ وہ اُن کی دینی حیثیت کو بے بنیاد ثابت کرتاہے- اِس سے ان کو اپنی قیادت پر ضرب پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے- اِس سے ان کے معاشی مفادات درہم برہم ہوتے ہیں- اِس سے ان کی گدّیاں چھنتی ہوئی نظر آتی ہیں- اُس کوماننا اپنے آپ کو جمے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتاہے- ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوش زندگی کے لیے تازیانہ بن جاتاہے اور دوسری طرف، خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اُن کے ’’شہ سوارِ اسلام‘‘ ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے- یہ چیزیں اُس شخص کو اتنی بے شمارقسم کی مخالفتوں اور مشکلات میں مبتلا کردیتی ہیں کہ اُس کے مقابلے میں ایک دن میدانِ جنگ میں لڑ کر مرجانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا-
اِن مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت اُن قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے جو دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں- اُن کی قیادت کا راز صحیح دین کا علَم بردار بننا نہیں ہوتا- وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں- کوئی کسی ادارے کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے، کوئی دینی جشنوں اور تقریبوں میں خطابت کا جوہر دکھاکر مرجعِ خلائق بن جاتا ہے- کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کرلیتاہے- کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر اُن کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے- کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کررہا ہوتاہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں— صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اِس قسم کے تمام لوگوں کے لیے چیلنج بن جاتاہے- اُس کے فروغ میں ان کو اپنا عزت واقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے- مزیدیہ کہ ایک عرصہ تک عزت واستقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں ان کے اندرایک قسم کا دینی کبر پیدا ہوجاتاہے- وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں- فطری طورپر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو اُن کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے-
اعاظم واکابر کی یہ مخالفت سچے دین کے علم بردار کے لیے انتہائی شدید مسائل پیدا کردیتی ہے-وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائکاٹ کیا جاتا ہے- اس کی بے دینی کے فتوے دئے جاتے ہیں- اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے- اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے- اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کارروائی کو جائزسمجھ لیا جاتاہے- اکابرِ قوم کی مخالفت سے اصاغرِ قوم کو مزید جرأت ہوتی ہے، بالآخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لیے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنٰی بن جاتاہے-اِن حالات میں ’’فسادِ امت‘‘ کے وقت ’’سنتِ رسول‘‘ کو زندہ کرنے کے لیے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے جو سوبار قتل ہونے کے برابر ہے- اِسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد نہیں- خدا کا دین گویا دنیا میں رزقِ الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے- اِس رزق کا سب سے بڑا حصہ اُسی کو ملتا ہے جو اِس راہ میں اپنے آپ کو مٹانے کے لیے تیار ہو- یہ عزت وشہرت کا اسٹیج نہیں، یہ بربادی کےمقامات ہیں- اِن مقامات کو طے کرنا بلا شبہہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے- مگر اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اُس کی اعلی سطح پر اُس وقت تک پانہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لیے تیار نہ ہو-(35: 41)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it