نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (2 جولائی 2012 ) میں بتایا گیا ہے کہ ناروے (Norway)کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا- اس کے بعد اس نے اپنا نام عبد الرحمن رکھا- القاعدہ کے لوگ اس کو ناروے سے یمن لے گئے- وہاں اس کی تربیت کی گئی- اُس کو ایک منصوبے کے لیے تیار کیاگیا جس کا مقصدتھا ایک امریکی ہوائی جہاز کو بم سے اڑانا- خبر میں بتایا گیا ہےکہ القاعدہ مغربی مسلمانوں کو رکروٹ (recruit)کرکے ان کے اندر انقلابی ذہن پیدا کرتا ہے، پھر ان کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے، کیوں کہ ایسے لوگوں کے لیے ائرپورٹ کی سیکورٹی سے بچ نکلنا آسان ہوتا ہے:
Al-Qaida is seeking to recruit radicalised westerners in an attempt to evade airport security. (p. 14)
مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں لوگ اسلام قبول کررہے ہیں- اِن لوگوں کا اصل استعمال یہ ہے کہ اُن کو ان کے ہم قوموں میں مزید اشاعتِ اسلام کے لیے استعمال کیا جائے، مگر بعض مسلم تنظیمیں اِس معاملے میں ایک نہایت غلط رول ادا کررہی ہیں- یہ مسلم تنظیمیں اپنے دائرے میں لے کر ان لوگوں کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتی ہیں- اِس طرح ایک عظیم امکان ضائع ہورہا ہے-
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مختلف قسم کے غیر دعوتی گروپ قائم ہیں- مثلاً مبنی برفضائل گروپ، مبنی بر مسائل گروپ، مبنی بر عسکریت گروپ، وغیرہ- جب کسی مغربی ملک میں کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی گروپ اُس کو اپنے فولڈ میں شامل کرلیتا ہے اور پھر دھیرے دھرے اس کا حال وہی ہوجاتاہے جس کو ایک فارسی شاعر نے اپنے ان الفاظ میں بیان کیا تھا:
ہر چیز کہ در کانِ نمک رفت، نمک شد
مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو مواقعِ دعوت کی بربادی سے بچائیں، ورنہ خدا کے نزدیک وہ ، ’صد عن سبیل اللہ‘ (43: 37) کا مصداق قرار پائیں گے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔