کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر بہت زیادہ خرچ کرنے کا مزاج ہوتا ہے- وہ لوگوں کو خوب دیتے ہیں اور خوب کھلاتے پلاتے ہیں- اِس طرح کی عادت کو عام طورپر سخاوت کہاجاتاہے- لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بہت سخی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سخاوت نہیں، بلکہ فضول خرچی ہے- ایسے لوگوں کے لیے صحیح لفظ فضول خرچ ہے، نہ کہ سخی-
قرآن میں صحیح خرچ کا ایک معیار بتایا گیاہے- وہ معیار یہ ہے: الذین یؤتون ما اٰتوا وقلوبہم وجلة أنہم إلى ربہم راجعون (23: 60) یعنی وہ لوگ جو دیتے ہیں، تو جو کچھ وہ دیتے ہیں، اِس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں کہ انھیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے-
قرآن کی یہ آیت خرچ کے معاملے میں ایک حتمی معیار کو بتا رہی ہے- اگر خرچ کرنےوالے کا حال یہ ہو کہ دوسرے کو دیتے ہوئے وہ اپنی محرومی کو یاد کررہا ہو- دوسروں کو دیتے ہوئے اس کو یہ خیال ستا رہا ہو کہ دنیامیں تو میں دوسرے کو کھلانے کی پوزیشن میں ہوں، لیکن آخرت کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ وہاں میرا کیا حال ہوگا- وہ دوسرے کو ٹھنڈا مشروب پلا رہا ہو اور خود اس کا اپنا حال یہ ہو کہ آخرت کی یاد میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں- اُس کو یہ یاد ستارہی ہو کہ دنیا میں تو میں الید العُلیا (دینے والا ہاتھ) ہوں، آخرت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ میں الید السُّفلى (لینے والا) بن جاؤں-
جن لوگوں کا خرچ مذکورہ نوعیت کا خرچ ہو، وہی اللہ کے یہاں سخی کا درجہ پائیں گے- اور جن لوگوں کا معاملہ اِس کے برعکس ہو، جن لوگوں کا خرچ محض مزاج یا عادت (habit)کے تحت ہورہا ہو، جو اپنی ذاتی تسکین کے لیے خرچ کرتے ہوں، اُن کا کیس بلاشبہہ فضول خرچی کا کیس ہے-
ایسے لوگ دنیا والوںکے درمیان اگرچہ سخی کی حیثیت سے مشہور ہوں، لیکن آخرت میں وہ صرف ایک فضول خرچ انسان کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے،جن کو قرآن میں ابلیس کا بھائی قرار دیاگیا ہے(17:27)-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔