Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala October 2012
Al-Risala October 2012

بھولا ہوا سبق

Urdu · 2 min read

اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک (وفات: 717 ء) کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ خلیفہ بنائے جانے سے پہلے اپنا زیادہ وقت دمشق کی مسجد میں گزارتا تھا اور قرآن پڑھتا رہتاتھا۔ چناں چہ اس کو فاختۂ مسجد(حمامۃ المسجد) کہاجاتا تھا۔ جس دن اس کے پیش رو خلیفہ کی وفات ہوئی، اُس دن بھی وہ حسب معمول مسجد میں تھا اور وہاں قرآن پڑھ رہا تھا۔ اُس وقت سلطنت کا ایک ذمہ دار آدمی مسجد میں سلیمان بن عبد الملک کے پاس آیا اور اس کو یہ خبر دی کہ آج سے آپ خلیفہ ہیں۔ اس کے بعد فوراً سلیمان بن عبد الملک اٹھا اور قرآن کو مسجد کے طاق پر رکھا اور کہا: ہذا فراق بینی وبینک (آج سے میرے اور تمھارے درمیان جدائی ہے)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عجیب بات ہے کہ یہ انفرادی واقعہ بعد کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک عمومی واقعہ بن گیا۔ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں اہلِ ایمان کا سب سے بڑا مشن دعوت الی اللہ تھا۔

بعد کو جب مسلمانوں کی سلطنت قائم ہوگئی اور ان کا ایمپائر بن گیا تو تقریباً پوری امت نے دعوت الی اللہ کو خیر باد کہہ دیا اور سیاسی اقتدار کو انھوںنے اپنی زندگی کا واحد کنسرن (supreme concern) بنا لیا۔

تقریباً ہزار سال بعد اٹھارھویں صدی کے آخر میں، مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر عملاً ختم ہوگیا، مگر دوبارہ وہی حال ہوا کہ مسلمان دعوت الی اللہ کو اپنا مشن نہ بنا سکے۔ اب اُن کا واحد کنسرن یہ بن گیا کہ مفروضہ دشمنوں یا مفروضہ غاصبوں سے لڑ کر دوبارہ وہ اپنے سیاسی عہد کو واپس لائیں۔

یہ مسلم تاریخ کا خلاصہ ہے۔ مسلم تاریخ اب اکیسویں صدی میں داخل ہوچکی ہے، لیکن اب بھی یہی حال ہے کہ دعوت الی اللہ مسلمانوں یا مسلم رہنماؤں کا مشن نہیں۔ یہی بلاشبہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اُن کو دوبارہ دعوت الی اللہ کو اپنا مشن بنانا ہوگا۔ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو اُن کے لیے دنیا کی کامیابی بھی مشتبہ ہے اور آخرت کی کامیابی بھی مشتبہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content