قرآن کی سورہ آل عمران میں غزوۂ احد(3 ہجری) پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: ولا تہنوا ولا تحزنوا، وأنتم الأعلون إن کنتم مؤمنین (139: 3) یعنی ہمت نہ ہارو اور غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے، اگر تم مومن ہو۔ قرآن کی اِس آیت کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا تعلق اللہ کی سنت سے ہے، نہ کہ مومنین کی فضیلت سے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مومنین اپنی گروہی فضیلت کی بناپر لازماً کامیاب ہوںگے، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کا جو گروہ اللہ کی سنت پر قائم ہوگا، وہ ضرور اللہ کی نصرت کا مستحق ٹھہرے گا اور اِس بنا پر وہ لازماً کامیاب ہوگا۔
اِس آیت میں جن مومنین کا ذکر ہے، اُس سے مراد اصحابِ رسول ہیں۔ اصحابِ رسول ایک خدائی مقصد کے لیے اٹھے تھے، یعنی دعوت الی اللہ کا مشن۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کا پیغام تمام انسانوں تک پہنچایا جائے۔ اصحابِ رسول کا مشن یہی دعوت الی اللہ تھا۔ اصحابِ رسول کو جو لڑائی پیش آئی، وہ خود اصحابِ رسول کے اقدام کی بنا پر نہ تھی، بلکہ وہ تمام تر فریقِ ثانی کی جارحیت کی بناپر پیش آئی۔ جو اہلِ ایمان اِس طرح کے خدائی مشن کے لیے اٹھیں اور اس کے تقاضے کو پورا کریں، وہ اِس جدوجہد میں کسی قومی مفاد کو شامل نہ کریں تو وہ لازماً اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
اِس کامیابی کا تعلق نہ سیاسی اقتدار سے ہے اور نہ قومی مفادات سے۔ اِس کا تعلق تمام تر اِس بات سے ہے کہ اہلِ ایمان کا گروہ جس کام کے لیے اٹھے، وہ کوئی قومی کام نہ ہو، بلکہ وہ تمام تر اللہ تعالیٰ کا مطلوب کام ہو۔ مثلاً مسلم اقتدار کے لیے اٹھنا ایک قومی کام ہے۔ اِس کے برعکس، دعوت الی اللہ کے لیے اٹھنا ایک خدائی کام ہے—— قرآن کی مذکورہ آیت میں جس کامیابی کا وعدہ کیاگیا ہے، اُس کا تعلق قومی کام سے نہیں، بلکہ خدائی کام سے ہے۔ اہلِ ایمان کی اِ س کامیابی کا مطلب خدائی نشانے کا پورا ہونا ہے، نہ کہ مسلمانوں کے قومی مقاصد کا حاصل ہونا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔